استعمال ہی کیوں ہوا کوئی اور لفظ حدیث میں کیوں نہ آیا تو جواب یہ ہے کہ مسلم کی ایک حدیث میں مبعوث کا لفظ بھی آیا ہیے نزول کا لفظ اس لئے استعمال ہوا کہ اس وقت کل برکات اور فیوض اٹھ جاویں گے اور پھر آسمان سے نازل ہوں گے قرآن شریف میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہیکہ ہم نے آپؐ کو آسمان سے نازل کیا اور آسمان ہی سے پانی بھی اترتا ہے اگر آسمان سے بارش نہ ہو تو کنوئیں بھی پانی نہین دیتے لمبے قحطوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان لوگوں کو وصیت تھی کہ میرے بعد بخاری کو ماننا؟ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت تو یہ تھی کہ کتاب اﷲ کافی ہے۔ہم قرآن کے بارے میں پوچھے جائیں گے نہ کہ زید اور بکر کے جمع کردہ سرمایہ کے بارے میں۔یہ سوال ہم سے نہ ہوگا کہ تم صحاح ستہ وغیرہ پر ایمان کیوں نہ لائے؟ پوچھا تو یہ جائے گا کہ قرآن پر ایمان کیوں نہ لائے؟ بحث کے اصول بحث کے قواعد ہمیشہ یاد رکھو۔اول قواعد مرتب ہوں۔پھر سوال مرتب ہوں کتاب اﷲ کو مقدم رکھا جائے احادیث ان کے اقرار کے بموجب خود ظنیات ہیں یعنی صدق اور کذب کا ان میں احتمال ہے اس کے یہ معنے ہین کہ ممکن ہے کہ سچ ہو اور ممکن ہے کہ جھوٹ ہو لیکن قرآن شریف ایسے احتمالات سے پاک ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن شریف تک ہی ہے۔پھر آپؐ فوت ہو گئے اگر یہ احادیث صحیح ہوتیں اور مدار ان پر ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما جاتے کہ میں نے احادیث جمع نہیں کیں فلاں فلاں آوے گا تو جمع کرے گا تم ان کو ماننا۔ سُنّت اور حدیث پس اول قرآن کو مقدم کیا جاوے اس کے بعد سنت۔سنت یہ ہے کہ قرآن شریف میں جو احکام آئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خود کر کے دکھلا دیا جیسے نماز پڑھ کر بتادی کہ صبح کی یوں ہوتی ہے شام کی یوں۔جیسے جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن شریف سے استنباط کئے۔ویسے ویسے آپؐ بتلاتے رہے اور جو آپؐ کے اقوال تھے ان کا نام حدیث ہے ایک سنت یہ بیھ تھی کہ آپؐ فوت ہو گئے قرآن شریف میں ہے وما محمد الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل (آل عمران : ۱۴۵) یعنی سب رسول فوت ہو گئے آپؐ بھی فوت ہوں گے چنانچہ خد اکی بات پوری ہو گئے اور آپ فوت ہو گئے۔؎ٰ