قدر باتیں کرتے ہیں یہودیوں کو الیاس کی انتظار تھی مسیح نے کہا یحییٰ الیاس ہے خواہ قبول کرو خواہ نہ کرو پھر اسی وقت جا کر یحییٰ سے دریافت کیا اور دریافت بھی ایسے الفاظ میں کیا ہو کہ اسے یہو جواب دینا پڑا کہ میں وہ الیاس نہیں ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بار بار احادیث پیش کررتے ہیں اور ان میں سے نزول کو لیتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر اسی مسیح نے آنا تھا تو پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے کا حلیہ کیوں الگ بتلایا اور کہا کہ آنے والے مسیح کو تم اس طرح پہچانو۔اس کی کیا ضرورت تھی؟ مباحثہ میں بھی اصول رکھا جاوے کہ قرآن شریف مقدم ہے یہ منواکر ان سے کہا جاوے کہ تقدم قرآن تو اب مقبولہ فریقین ہے باقی امور اسی سے فیصلہ کر لو اگر حدیثوں پر سارا مدار ہے تو قرآن کی کیا ضرورت ہے جو کہتا ہے الیوم اکملت لکم دینکم جھوٹے دھوکے ہیں۔ انہ لعلم للسا عۃ انہ لعلم للسا عۃ (الزخرف : ۶۲) کے یہ معنے ہیں کہ یہودیوں کے ادبار اور ذلب کی نشانی مسیح کے آنے کا وقت تھا اور جعلنا ہ مثلا لبنی اسرائیل (الزخرف : ۶۰) بھی اسی کی تصدیق کرتا ہے۔ ساعت کے معنی آخرت کے بھی ہیں ان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ (النساء : ۱۶۰) کے معنے یہ کرتے ہیں کہ وہ (مسیح) اب تک زندہ موجود ہیں جب آویں گے تو کل اہل کتاب ایمان لاویں گے اس کے متعلق ابو ہریرہؓ کی حدیث پیش کرتے ہیں حالانکہ تفسیر مظہری میں اس کے اوپر کس قدر مطاعن ہیں۔یہ کہنا کہ کل اہل کتاب اس وقت ایمان لاویں گے‘ غلط ہے قرآن مجید سے ثابت ہے کہ قیامت تک کافر موجود رہیں گے قرآن شریف کو ہر حالت میں مقدم رکھنا چاہئے قرآن کے نصوص قطعیہ بالکل فیصلہ کر دیتے ہیں۔ سورۃ تحریم میں ہے کہ مسیح بن مریم اسی امت میں سے ہوگا سورۃ النور میں ہے کہ تمام خلیفے اسی امت میں سے ہوں گے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح کا نام حکم رکھا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بہت فرقے ہوں گے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ غلطیاں کثرت سے ہوں گی۔ نزول کی حقیقت قرئن مجید میں نزول کی معنے مختلف مقامات پر مختلف ہیں اگر اعتراض ہو کہ پھر نزول کا لفظ