یکم نومبر ۱۹۰۲ء بروز شنبہ
(بوقت سیر )
حضرت اقدس حسب دستور سیر کے لئے نکلے تمام راہ مولوی فتح دین صاحب حضرت اقدس کے مخاطب رہے حضرت اقدس بار بار ان کے ذہن نشین یہ امر کراتے رہے کہ مباحثات میں ہمیشہ دیگر طریق استدلال چھوڑ کر اس طریق کو اختیار کرناچاہئیے قرآن شریف مقدم ہے اور احادیث ظن کے مرتبہ پر ہیں قرآن شریف سے جو امر ثابت ہواس کوکوئی حدیث خواہ پچاس کروڑ ہوں ہر گز ردنہیں کرسکتیں چونکہ اس گفتگومیںمیاںفتح دین صاحب بھی بعض اوقات احادیث سے اپنے استنباط کرسکتیں چونکہ اس گفتگومیںدرج کئے ہیں مفصل حضرت اقدس کوسناتے رہے اورحضرت اقدس مختلف طور پر ان کوسمجھاتے رہے اس لئے ہم
حضرت اقد س کے کلمات کو مختصراًیہاںدرج کرتے ہیں
اِسلام کامدار قرآن شریف پر ہے
Amira 5-4-05
ان لوگوں سے پوچھنا چاہئے کہ تم خود قائل ہو کہ اصح کتاب قرآن شریف ہے احادیث ۱۵۰ برس بعد جمع ہوئیں پھر ان میں باہم تناقض ہے ایک میں مہدی کا ذکر ہے ایک میں ہے
لا مھدی الا عیسی
ایک طرف مہدی کی حدیث ضعیف لکھی ہے پھر کہتے ہیں کہ مسیح اوپر سے اترے گا تو ایک طرح سے ایک ٹانگ ٹوٹ گئی جب قرآن شریف بار بار اوپر کے آنے سے منع کرتا ہے تو حدیث جو کسی طرف سے خواہ حقیقتاً خواہ استعارہ کے طور پر قرآن شریف کے برابر نہ آسکے تو وہ ہر حال میں نا قابل اعتبار ٹھہرے گی ورنہ اس طرح اسلام درہم برہم ہو جائے گا۔تمام ستون اور مدار اسلام کا قرآن شریف پر ہے جب قرآن شریف میں ہے کہ عیسیٰ ؑفوت ہو گئے تو پھر انکار کیسا؟
’’فلما توفیتنی‘‘ (المائدہ : ۱۱۸)
کی نسبت آپ مولوی فتح دین صاحب کو سمجھاتے رہے۔پھر احادیث کے بیان کی طرف رجوع کر کے فرمایا
اگر ان کا حدیث پر اس قدر اعتبار ہے تو رفع یدین کی جو چودہ سو احادیث آئی ہیں اس پر کیوں نہیں عمل کرتے ہمارا مسئلہ خد اتعالیٰ کی سنت قدیمہ کے مطابق ہے جیسے یہ آمد مسیح کے منتظر ہیں ویسے ہی یہودی الیاس کے منتظر تھے۔پیغمبر کے لئے ضروری نہیں ہے کہ اس کا علم اتنا وسیع ہو جیسے خد اکا ہے یہ پیغبر پر جائز ہے کہ بعض امور کی تفصیل اس پر نہ کھل سکے۔جیسے کہ بہت سے آخرت کے امرو ہیں کہ انسان کو مرنے کے بعد معلوم ہوتے ہیں تو پھر یہ لوگ اپنے علم پر کیوں اس