بڑے بڑے جلسوں میں جیساکہ ناچتی ہیں نہ ناچیں یہ تو قرآن ہی تعلیم دیتاہے تونامحرم کومت دیکھ۔ مجھے تعجب ہے کہ وہ کیاعقل ہے جوتاریکی کو روشنی سمجھتی ہے یہ امر دیگر ہے کہ کوئی سچامتبع نہ ہو لیکن جو ویدیاانجیل کاسچامتبع ہے اس کواسکی تعلیم پر عمل کر کے پورانمونہ دکھاناہوگااب اگر وید کے سچے متبع کی تصویر کھینچیں تو توضروری ہوگاکہ وہ وایواورگنی کوخداکہے ااور اولادنہ ہوتی ہوتو نیوگ کرالے مگر جو قرآن پر عمل کرتاہے اسے لازم ہے کہ وہ وحدہ لاشریک خداکو مانے او رہر قسم کی بے حیائی اورناپاکی سے دور رہے اورفسق و فجور سے بچے۔عورتیں پاک دامن ہوں ۔اب ان دونوںتصویروںپر غور کر لو اصلمیں ایک شخص جس دین کی طرف منسوب ہوتا ہے وہ حقیقی نام اس وقت حاصل کرتا ہے جب اس کاسچامتبع ہو اور پابند مذہب ہو۔آپ قرآن کاایک جزبھی پڑھیں گے تو معلوم ہوجاوے گا ۔ ۱؎ ۳۱ ؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ دربارشام بعدادائے نماز مغرب اولاًچند آدمیوںنے بیعت کی ۔پھر میاں نبی بخش صاحب نمبر دار چک نمبر ۱۰۸نے دعا کی درخوست کی حضور کی محبت ہمارے دل میں بڑھے ۔ فرمایا:۔ خداکافضل خداتعالیٰ نے جواخلاص اورتوجہ عطاکی ہے خود اس نے ابتداء کی ہے اس لئے شکر کرو کہ وہ اوربھی بڑھادے یہ محض اسی کافعل ہے جواس نے حق شناسی کی توفیق دی ورنہ اگردل سخت کر دے توانسان رجوع نہیں کر سکتا یہ اسی کہ فعل سے ہوتاہے جو یقین اوراخلاص عطاکرتاہے اوراس کے شکرپر اس کو بڑھاتاہے پس شکر کرو اس کافعل اور ترقی کرے نمازوں میں ایاک نعبد وایاک نستعین کاتکراربہت کرو ایاک نستعین خداکے فضل اورگمشدہ متاع کوواپس لاتاہے ۔ ۲؎