اور اشارہ سے کرتا ہوںیہ پیشگوئی جو اس حدیث تجمع لہ الصلاۃ میں کی گئی ہے یہ مسیح موعود اور مہدی کی ایک علامت ہے یعنی وہ ایسی دینی خدمات اور کاموں میں مصروف ہو گا کہ اس کے لئے نماز جمع کی جاوے گی اب یہ علامت جب پوری ہو گئی اور ایسے واقعات پیش آگئے پھر اس کو بڑی عظمت کی نگا ہ سے دیکھنا چاہیے۔کہ استہزاء اور انکار کے رنگ میں۔ دیکھو انسان کے اپنے اختیار میں اس کی موت فوت نہیں ہے اب اس نشان کے پورا ہونے پر تویہ لوگ رکیک اور نامعقول عذر تراشتے ہیں اور اعتراض کے رنگ میں پیش کرتے اور حدیث کی صحت اور عدم صحت کو لے بیٹھے ہیں لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ اگر خدا نخواستہ اس نشان کے پورا ہونے سے پہلے ہی ہماری موت آجاتی تو یہی لوگ اس حدیث کو جس کو اب موضوع ٹھہراتے ہیں آسمان پر چڑھا دیتے اور اس سے زیادہ شور مچاتے جو اب مچا رہے ہیں دشمن اسی ہتھیار کو اپنے لئے تیز کر لیتے لیکن اب جب کہ وہ صداقت کا ایک نشان اور گواہ ٹھہرتا ہے توا س کو نکما اور لاشے قرار دیا جاتا ہے پس ایسے لوگوں کے لئے ہم کیا کہہ سکتے ہیں انہوں نے تو صد ہا نشانات دیکھے مگر انکار پر انکار کیا ور صادق کو کاذب ہی ٹھہرایااور کس نشان کو انہوں نے مانا جو اس کی امید ان سے رکھیںکیا کسوف و خسوف کا کوئی چھوٹا نشان تھا اس کے پور ا ہونے سے پہلے تو اس کو نشان قرار دیتے رہے مگر جب پورا ہو گیا تو اس کو بھی مشکوک کرنے کی کوشش کی بہرحال مخالفوں کی کور چشمی اور تعصب کا کیا علاج ہو سکتا ہے ؟ اب رہی اپنی جماعت خدا کا شکر ہے کہ اس کے لئے کوئی ابتلاء نہیں کیونکہ جس نے دمشق کے منارہ پر چڑھنے والے اور فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے زرد پوش مسیح کے اترنے کی حقیقت کو اللہ کے فضل سے سمجھ لیا ہے اور جس نے خدا کی صفات والے دجال کا انکار کر کے دجال کی حقیقت حال پر اطلاع پا لی ہے اور ایسا ہی دابۃ الارض اور دجال متعلق ان لوگوں نے خانہ ساز مجموعوں کو چھوڑا ہے اور اس قدر باتوں پر جب وہ مجھ پر نیک ظن کرنے کے باعث الگ ہوگئے ہیں تو یہ امر انکی راہ میں روک اور ابتلاء کا باعث کیون کر ہو سکتا ہے یہ بھی یاد رکھو کہ اب تک صرف حسن ظن تک نہیں رہی بلکہ خدا تعالیٰ نے ان کی معرفت اور بصیرت کے مقام تک پہنچایا دیا ہے اور وہ دیکھ چکے ہیں کہ میں وہی ہوں جس کا خدانے وعدہ کیا تھا ہاں میں وہی ہوں جس کا سارے نبیوں کی زبان پر وعدہ ہوا اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کی معرفت بڑھانے کے لئے منہاج نبوت پر اس قدر نشانات ظاہر کئے کہ لاکھوں انسان ان کے گواہ ہیں دوست دشمن ، دورونزدیک،ہر مذہب و ملت کے لوگ ان کے گواہ ہیں زمین نے اپنے نشانات الگ ظاہر کئے آسمان نے الگ وہ علامت جو میرے لئے مقرر تھیں وہ سب پوری ہو گئیں پھر اس قدر نشانات کے بعد بھی اگر کوئی انکار کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوتا ہے میں دعوی سے کہتا ہوں تم میں سے ہرایک پر خدا نے