مذہب قبول کرنے کے لائق نہیںہے ۔ عیسائیوں نے مخلوق پر ظلم کیا کہ کفارہ کی تعلیم دے کر شریعت کو لعنت کہہ کر نیکی کادروازہ ہی بند کر دیا اور قوائے انسانی کی بے حرمتی کی ۔ جب کہہ دیا کہ کوئی نیکی کر ہی نہیں سکتا ۔ مگر اسلام مخلوق کی حقوق کو جائز اور مناسب مقام پر قائم کرتا ہے وہ ایسی تعلیم نہیں دیتا جو نیوگ کے پیرایہ میں دی گئی وہ انسانی قویٰ یبے حرمتی نہیںکرتا اورانسان کوکفارہ کی تعلیم دے کر ست نہیںبناناچاہتا اس نے شریعت کو لعنت نہیں بنایا بلکہ انسانی طاقتوں کے اندر اسے رکھا اس طرح معاملہ توبالکل صاف ہے اگروہم نہ ہواور قبول حق میں کوئی روک نہیںہوسکتی اگر بزدلی نہ ہو۔ سائل :۔ ان مذاہب کی بابت تو مجھے پہلے سے اعتراض ہیںمگر اسلام کی کتابیں میںنے نہیں پڑھی ہیں ۔فرمایا: آپ قرآن شریف کو پڑھیں اس سے معلوم ہوجاوے گاوہ خداکی نسبت کیاتعلیم دیتا ہے اورمخلوق کی نسبت کیا؟ ان دونوں تعلیموں کو اگر آدمی غورسے دیکھ لے توحق کھل جاتا ہے ۔ پھر مفتی صاحب نے میور صاحب کی ایک تصنیف سنائی جواس نے مسلمانوں سے مناظرہ کرنے کے متعلق ہدایت پر لکھی ہے پھر چند لوگوں نے بیعت کی پھر طالب حق نے عرض کیاکہ مجھے خواب آیا تھا کہ توا مسیح کہ پاس جا اور اس سے پوچھ اگر وہ کہے کہ میں مسیح ہوں تو اپھر جو وہ کہے مان لے ۔ فرمایا:۔ ہم توسالہاسال اس دعویٰ کی اشاعت کر رہے ہیں اورخدانے صدہانشان اس کی تائیدمیں دکھائے ہیں جن کو خدانے سعادت اور فہم دیا ہے وہ سمجھ لیتے ہیں جس کو ان سے حصہ نہیں وہ محروم ہوجاتاہے فرمایا :۔ حق شناسی کی راہ میں اگر وہم اوربزدلی نہ ہوتو کوئی مشکل نہیں ۔ مشرق اورمغرب میں تلاش کرو ۔ اسلام کے سواحق نہیں ملے گامجھے تعجب ہے کہ لوگ ایک پیسہ کی چیز لیتے ہیں تو اسے خوب دیکھ بھال کر لیتے ہیں مگر مذہب کے معاملہ میں توجہ نہیں کرتے اگر انسان توہمات میں گرفتا ر نہ ہو توآجکل مذہب کے حسن قبح معلوم کرنے میں کوئی مشکل نہیں ۔ مقابلہ کر کہ دیکھ لو اگرسچامسلمان ہوجاوے توپاک ہوجاتاہے دوسرے مذاہب میں یہ نہیں۔کیا ایک عیسائی پاک ہوسکتا ہے ؟جس کوکفارہ پر ایمان لاتے ہیں عشاء ربانی میںشراب استعمال کرنی پڑتی ہے یاانجیل پر عمل کرکے وہ پاکیزگی میںترقی کر سکتا ہے ؟جس کی رو سے منع نہیں کہ غیر مردوںکے ساتھ عورتیں