عیسائیت پھر ایک اور مذہب ہے جس کے اشاعت کے لئے کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا جاتا ہے اور وہ عسائی مذہب ہے اس میں خدا شناسی کی اور بھی ردی حالت ہے وہ اول تو سرے سے خدا ہی کو تین مانتے ہیں اور یہ ایسامسئلہ انکے نزدیک ہے کہ وہ سمجھ میں آہی نہیں سکتے اور پھران تین میں سے ایک عاجز انسان بھی ہے جو مریم کے پیٹ سے پیداہوااورجس کی ساری عمر جیسا کے انجیل سے معلوم ہوتاہے کہ ایک کرب اور اضطراب میں گذری ۔ ماریں کھاتارہا اور آخر یہودیوں نے اسے پکڑکر صلیب پر چڑھادیا اب اگر خداکایہی نمونہ ہے تو کون اس پر ایمان لاسکتاہے ؟ اِسلام مگراسی خداشناسی کے متعلق جو تعلیم اسلام نے دی ہے وہ ایسی صاف ہے کہ ہر عقلمند کواس کے ماننے پر مجبور ہوناپڑتا ہے ۔ اسلام بتاتا ہے کہ اللہ وہ ہے جو تمام اوصاف حمیدہ سے موصوف اور تمام نقصوں سے مبرا ہے اور وہ تمام اشیاء کاخالق اورمالک ہے وہ رحمان اوررحیم ہے ۔ اسلام کسی مخلوق کوخدایاخداکاہمسر نہیں بناتا۔وہ خالق اورمخلوق میں فرق بتاتاہے اب اس اصل میں جب مقابلہ کیاجاوے توکیسے صاف اورواضح طور معلوم ہوجاتاہے کہ کوئی مذہب اس اصل میں اسلامکامقابلہ نہیں کرسکتا اوراسلام ہی سچامذہب ہے ۔ دوسری اصل پھرمذہب کی دوسری جزویااصل یہ ہے کہ وہ مخلوق کے حقوق کیسے قائم کرتاہے اس اصل میں بھی دوسرے مذاہب سے مقابلہ کر کہ دیکھو لو ۔ آسیہ مذہب نے توایسا ظلم کیا ہے کہ بجز بے غیرتی کے اور معلوم نہیں ہوتا ۔ اس نے نیوگ کی تعلیم سی ہے کہ جس شخص کے گھر میں اولاد نہ ہوتو وہ اپنی عورت کو دوسرے شخص سے ہم بستر کرادے اور اولاد حاصل کر لے اب اس سے بڑ ھ کر پاکیزگی اور غیرت کاخون اور کیاہوگا کہ ایک شخص کو جس کی بد قسمتی سے دو چار سال تک اولادنہیں ہوئی ، کہہ دیا جاوے تواپنی بیوی کودوسرے آدمی سے ہم بستر کرا لے کیسی شرمناک بات ہے ۔یہاں قادیان میں ایک شخص موجود ہے اس سے جب نیوگ کی بابت پوچھا گیا تواس نے یہی کہاکیامضائقہ ہے ۔ اب کوئی عقلمند اس تعلیم کو کب گوارہ کر سکتا ہے میںنے پڑھاتھاایک بنگالی آریہ ہوگیا ایک برہمونی جب اس پر نیوگ کی حقیقت کھولی تو اس نے ستیارتھ پرکاش کوپھٹکار کر مارا اور کہاکہ یہ