کر کے دیکھ لینا چاہئے کہ مذہب حق کون سا ہے مجھے تعجب آتا ہے کہ اس وقت مہب کا مقابلہ ہو رہا ہے اور امر حق صاف طور پر معلوم ہو سکتا ہے اور اس ہند ہی میں سب مذاہب موجود ہیں سناتن ، عیسائی ،آریہ ، مسلمان وغیرہ بڑے بڑے یہی مذہب ہیں ۔
مذہب کی جَڑ خدا شناسی ہَے
مذہب کی پہلی جزو اور جڑ ھ خدا شنا سی ہے جس کا پہلا قدم ہی غلط ہے اور بے ٹھکا نے ہے دوسرا قدم اس کا کب ٹھکانے پر ـپڑے گا اب اس اصل پر مذہب کو شناخت کرو ۔
سناتن دھرم
سناتن دھرم کو لو انہوں نے کوئی جڑی بوٹی پتھر درخت چاند سورج غرض مخلو ق میں کوئی چیز نہیں چوڑی جس کی پر ستش نہیں کی اور جس کو خدا نہیں بنایا اب جس مذہب کا خدا شناسی کے متعلق یہ عقیدہ ہو ۔ اس کو علوم حقہ سے حصہ کب مل سکتا ہے ؟ اس کی اخلاقی حالتیں کیو نکر درست ہو سکتی ہیں؟ وہ تو ریل کو بھی دیکھیں تو اسے بھی سجدہ کرنے کو تیار ہیں ۔ اور اسے بھی خدا ماننے لگتے ہیں ۔
آریہ دھرم
پھر ان لوگوں میں ایک اورفرقہ ہے جو اپنے آپ کواصلاح یافتہ سمجھتا ہے اوراس کوآریہ کہتے ہیں ۔
آریہ کی خداشناسی کایہ حال ہے کہ انہوں نے بر خلاف وید کے خداکی توحید کازبانی اقرار توکیا ہے وید اگنی وایووغیرہ کی پرستش کی گئی ہے لیکن یہ لوگ اپنی زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم بتوںکی پوجانہیںکرتے مگر خداشناسی مین باوجود اس اقرار کے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ خداکو کسی چیز کاخالق نہیں مانتے اورصرف جوڑنے جاڑنے والامانتے ہیں جب خداکی اس عظیم الشان صفت سے انکار کیاگیا تو ایساناقص اور ادھورا خداکب کسی کے ماننے میں آسکتا ہے پھر انہو ں نے خدا کی دوسری صفتوں کا بھی انکار کیا مثلاً وہ مانتے ہیں کہ وہ کسی انسان کو کوئی چیز عطا نہیں کرسکتا ۔جو کچھ کسی کو ملتا ہے اس کے عملوں کی ہی پاداش ملتی ہے پھر انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ اگر گناہ نہ ہوتا تو دنیا کا کا م نہ چل سکتا کیونکہ گائے،بھینس اور دوسری آرام دہ مخلوق نہ ہو سکتی اس قسم کا خدا انہوں نے مانا ہے گویا خدا شناسی کے مقام سے یہ مذہب بھی گرا ہوا ہے۔