اس کی کوئی تصریح نہیں فرمائی گئی ۔ آج کی سیر میں متفرق مقامی اور آنی امور پر سلسلہ گفتگوشروع رہا اور ختم ہوا۔ ( دربارِشام ) ضرورت عمل کی ہے میان نبی بخش نمبر دار پنڈوری نے عرض کی کچھ پڑھا لکھاآدمی نہیں ہوں ۔ فرمایا:۔ علم کیا‘اصل ضرورت عمل کی ہے قِیَا مٌ فِی ْ مَا اَقَامَ اللہ ۲۔ایک شخص نے ملازمت چھوڑ کر تجارت کے متعلق مشورہ پوچھا ۔ فر مایا : نوکری چھوڑنی نہیں چاہئے ۔ قیام فی ما اقا م اللہ بھی ضرو ری ہے بلا وجہ ملازمت کو چھو ڑ نا اچھا نہیں ہے۔ طلب حق کیلئے ضرو ری امور ۳۔ ایک ہندو نے (جو اپنا نام طالب حق رکھتا تھا ) عرض کی کہ میں ایک عرصہ سے طلب ِ حق چاہتا ہوں مگر مجھے ابھی تک وہ راہ نہیں ملی ۔ فرمایا :۔ طلب حق کے لئے وہ چیزوں کی ضرورت ہے اول عقل سلیم چاہئے بعض لوگ طلب حق تو چا ہتے ہیں مگر غبی اور بلید طبع ہوتے ہیں اور قوت فیصلہ نہیں رکھتے اس لئے جو کچھ سمجھا یا جاوے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتے اور کل مذاہب ان کے سامنے پیش کئے جاویں تو وہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ان میں سے حق کس کے ساتھ ہے یہ بیماری ہے طبیبوں نے اس کو سو فسطائی عقل لکھا ہے ان پر وہم غالب نہ ہو ۔ دوم ۔ قبو ل حق کے لئے جرات رکھتا ہو بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ حق کو سمجھ تو لیتے ہیں مگر برادری کے تعلقات نہیں ٹوٹتے ایسے لوگ بزدل ہوتے ہیں یہ بزدلی بھی فائدہ نہیں پہنچاتی ۔ پہلے پہل جو بچہ مدرسے میں بھیجا جاتا ہے اس کے سامنے تو ابجد ہی پیش کی جاتی ہے ۔ کوئی بڑی کتاب نہیں رکھی جاتی اسی طرح مذہب کی پر کھ میں پہلے نسبتاً موٹے موٹے اصولوں میں مقابلہ