ساتھ انہوں نے زندگی بسر کی وہ انجیل کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتی ہے مگر مسیح موعود جیسے زبردست اور قوت قدسیہ کے کامل اثر والے متبوع کاپیرو ہے اسی طرح پر اس کی عظمت اور بزرگی کی شان اس سے بڑھی ہوئی ہے جو کامیابیاں اور نصرتیں اس جگہ خدا نے ظاہر کی ہیں مسیح آنحضرتؐاپنے مثیل موسیٰ سے ہر پہلومیں بڑھے ہوئے تھے اور گویا آپ اصل اور موسیٰ آپ کاظل تھے اسی طرح مسیح موعود موسوی مسیح سے نسبت رکھتا ہے ۔ نصرا نیّت کااثر نصرانیت کااثر آج کل عام ہورہا ہے بعض تو بالکل مرتد ہوگئے ہیں او ربعض نے اور نہیں فیشن میں ہی ان کی تتبع کر لیا ہے ۔ نیکی اور بدی کی کشش فرمایا :۔ انسان کے اندر نیکی اور بدی کی ایک کشش ہے آدمی نیکی کرتا ہے مگر نہیں سمجھ سکتا کہ کیوں نیکی کرتا ہے اسی طرح ایک شخص بدی کی طرف جاتا ہے لیکن اس سے پوچھا جاوے تو کدھرجاتا ہے وہ نہیں بتا سکتا ۔ مثنوی سومی میں ایک حکایت اس کشش پر لکھی ہے کہ ایک فاسق آقا کا ایک غلام تھاصبح کو جو مالک نوکر کو لے کر بازار سودا خریدنے کو نکلا توراستے میں اذان کی آوازسن کر نوکر اجازت لے کر مسجد میں نماز کو گیا اور وہاں ذوق اور لذت پیدا ہوا تو بعد نمازذکر میں مشغول ہوگیاآخر کار آقانے انتظار کر کے اس کو آوازدی اور کہا کہ تجھے اندر کس نے پکڑلیا تو نوکر نے کہا کہ جس نے تجھے اندر آنے سے باہر پکڑلیا ہے غرض ایک کشش لگی ہوئی ہے اسی کی طرف خدا نے اشارہ فرمایا ہے کل یعمل علی شاکلتہ(بنی اسرائیل : ۸۵) ۱؎ ۳۰؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ (صبح کی سیر ) الہام ’’نتیجہ خلاف امید ہے ‘‘