کرتے تھے اور ایک تالاب پربھی مریض جاکر اچھے ہوجایاکرتے تھے اس لئے ان باتوں نے معجزات مسیح کی کوئی عظمت دل میں پیدانہ کی اور وہ نور لیقین ومعرفت جو گناہوں کو زائل کرتا ہے ان میں پیدا نہیں ہوا۔ اس لئے یہودااسکریوطی جو مسیح کا خزانچی تھا اور جس کے پاس ایک ہزار روپیہ کی تھیلی رہتی تھی اس میں سے چرا لیاکرتا تھااور اسی لالچ نے اس کو تیس درہم لے کر گرفتار کرانے پر آمادہ کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح ؑ مسیح کے پاس تو ایک ہزار کی تھیلی رہتی تھی اور تعجب کی بات ہے کہ باوجود یکہ ایک ہزار روپیہ پاس رہتا تھاپھر بھی کہتے ہیں کہ ابن آدم کو سر رکھنے کو جگہ نہیں ۔ آنحضرت کی یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس جو کچھ بھی ہوتا وہ سخاوت کر دیا کرتے تھے ایک بار آپ کے گھر میں … ایک مہر تھی آپ ؐ نے اس کو لے کر تقسیم کر دیا ۔ مسیحؑ کا شوق ِجہاد پادری جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائیوں پر اعتراض کرتے ہیں اپنے گھر میں نگاہ نہیں کرتے ۔ آنحضرت ﷺکی لڑائیاں بالکل دفاعی تھیں مگر مسیح کو اس قدر شوق تھا کہ اس نے شاگردوں کو کہا کپڑے بیچ کر بھی ہتھیار خریدو ۔ اصل میں مسیح کی لڑائیاں نہ کرنا ’’ستر بی از چادری ‘‘ کامصداق ہے اگر موقع ملتا تو وہ ہر گز تامل نہ کرتے ۔ بلکہ اس قسم کی تعلیم سے جو انہوں نے ہتھیاروںکے خریدنے کی دی ج۔ صاف معلوم ہوتا ہے کے انہیں کس قدر شوق تھااور داؤد کے تخت کی وراثت کاخیال لگا ہواتھا ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو آپ ؐ نے ان مخالفوں نے جنہوں نے سخت ایذائیں دی ہوئی تھیں اور جواب واجب القتل تھہر چکے تھے پوچھا تمہارا میری نسبت کیا خیال ہے انہوں نے کہا توابن کریم ہے توآپؐ نے فرمایا ۔ اچھا میں نے تم سب کو بخش دیا آپ کے اس رحم و کرم نے ان پر ایسا اثر کیا کہ وہ سب مسلمان ہوگئے حضرت مسیحؑکو اپنے ایسے اخلاق کا موقع ہی نصیب نہیں ہوااور حواریوں کے لئے تو مسیح کا آنا ایک قسم کاابتلا تھاکیونکہ ان کو کو ئی فائدہ نہ ہوا اور انہوںنے کچھ نہ سیکھا ۔ مسیح ناصری او رمسیح محمدی فرمایا:۔ جو کامیابی اور اثر مسیح ابن مریم کا ہوا وہ توصاف ظاہر ہے اور جس کمزوری اور ناکامی کے