قوم میں نہیںملتی اس اس بہادر قوم نے ان مصیبتوں کو برداشت کرناگوارہ کیا لیکن اسلام کو نہیں چھوڑا ان مصیبتوں کی انتہاآخراس پر ہوئی کہ ان کووطن چھوڑنا پڑا اور نبی کریم ؐ کے ساتھ ہجرت کرنے پڑی اور جب خداتعالیٰ کی نظر میں کفار کی شرارتیں حد سے تجاوز کر گئیں اور وہ قابل سزا ٹھہر گئیں تو خدا تعالیٰ نے انہیں صحابہ ؓ کو مامور کیا کہ اس سرکش قوم کو سزا دیں چنانچہ اس قوم کوجو مسجدوں میںدن رات اپنے خدا کی عبادت کرتی تھی اورجس کی تعداد بہت تھوڑی تھی جس کے پاس کوئی سامان جنگ نہ تھا مخالفوں کے حملوں کوروکنے کے واسطے میدان جنگ میں آناپڑا ۔ اسلامی جنگیں دفاعی تھیں ۔
پھر ان جنگوں میں یہ چند سوکی جماعت کئی کئی ہزار کے مقابلہ میں آئی اور ایسی بہادری اور وفاداری سے لڑی اگرحواریوں کو اس قسم کاموقع پیش آتا توان میں سے ایک بھی آگے نہ ہوتا۔ ایک ذرا سے ابتلاء پر وہ اپنے آقا کوچھوڑ کاالگ ہوگئے توایسے معرکوں میں ان کاٹھہرنا ایک ناممکن بات ہے مگراس ایمان دار اور وفادار قوم نے اپنی شجاعت اور وفاداری کا پورانمونہ دکھایا اور جو کچھ جوہر انہوں نے دکھائے وہ سچے او رایمان اوریقین کے نتائج تھے موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کہا کہ بڑھ کر دشمن پر حملہ کرو تو انہوںنے کیا شرمناک جواب دیا
فاذھب انت و ربک فقاتلااناھھنا قاعدون ( المائدۃ : ۲۵)
تواورتیرا رب جاؤ اور لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گئے صحابہؓ کی لائف میں ایساکوئی موقع نہیں آیابلکہ انہوںنے کہا کہ ہم ان میں سے نہیں ہیں جنہوں نے یہ کہا
فاذھب انت وربک
ایسی قوت شجاعت اور وفاداری کاجوش کیونکر پیدا ہوگیا تھا ؟ یہ سب ایمان اوریقین کانتیجہ تھا جو آپ ؐ کی قوت قدسی اورتاثیر کااثر تھاآپ نے ان کو ایمان سے بھر دیا تھا ۔
مسیح کے حواریوں کاایمان
مسیح کے حواریوں میں جو ایمانی قوت پیدانہیں ہوئی اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ان کے معجزات پر کوئی قومی ایمان اوربھرسہ نہ تھا ۔ بلکہ اصل بات یہی ہے جیسا کہ بعض عیسائی مصنفوں نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ حواری دنیا دار اورسطحی خیا ل کے آدمی تھے انہیں یہ خیال تھاکہ یہ بادشاہ ہوجائے گا ۔ تو اہم کو عہدے ملیں گے ان کاتعلق ایک لالچ کے رنگ میں مسیح کے ساتھ تھااس لیے وہ ایمانی قوت اور عرفانی مذاق ان میں پیدا نہ ہوا۔ اگر وہ معجزات مسیح کودیکھتے کہ مردوں کو زندہ کرتا ہے توکیا وجہ ہے کہ ایسے عجوبے دیکھ کر بھی ایمان میں قوت نہ آئے ۔ حقیقت یہی ہے کہ مسیح سے سلب امراض وغیرہ کے نشانات جو دیکھتے ہیں وہ ایسے عام تھے کہ یہودی بھی