۲۹؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء
(صبح کی سَیر)
دُرِّ حکمت
طاعون کے ذکر پر ضمناًفرمایا :۔
(۱)خدا کے کام عجیب ہوتے ہیں لوگ مغرور ہوکر مطمئن ہوجاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ پھر پکڑ تا ہے ۔
(۲) نادان انسان ذرا سی خوشی پر تکبر سے باتیں کرتا ہے مگر آخر متح اسی کی ہوتی ہے جس کے ساتھ خدا ہو ۔
(۳) اسلام میں ہمیشہ نصرانیت کی سر کوبی کی ہے اور اب وقت ہے کہ ان کے عقائد کے پردہ دری ہوگئی ہے اور اس کے بعد کسی کوحوصلہ نہ ہوگا کہ انسان کابچہ کوخدا بنائے ج۔
فضائل صحابہ رضی اللہ عنہم
صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے وفادار اور مطیع فرمان تھے کہ کسینبی کے شاگردوں میں ایسی نظیر نہیں ملتی اورخدا کے احکام پر ایسے قائم تھے کہ قرآن شریف ان کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے لکھا ہے کہ جب شراب کی حرمت کاحکم ہوا تو جس قدر شراب برتنوں میں تھی گرادی گئی اور کہتے ہیں کہ اس قدر شراب بہی کہ نالیاں بہ نکلیں او رپھر کسی سے ایسا فعل شنیع سرزد نہ ہوااور وہ شراب کے پکے دشمن ہوگئے دیکھو یہ کیسے ثبات اوراستقلال علی الطاعت تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت جس وفاداری ۔محبت اور ارادت اور جوش سے انہوںنے کی کبھی کسی نے نہیں کی ۔ موسیٰ علیہ السّلام کی جماعت کے حلات پڑھ کر معلوم ہوتاہے کہ وہ کئی بار پتھراؤکرناچاہتی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری توایسے کمزور اورضعیف الاعتقاد تھے کہ خود عیسائیوں کوتسلیم کرناپڑا ہے اور اور حضرت مسیح آپ انجیل میں ست اعتقادان کانام رکھتے ہیں انہوں نے اپنے استاد کے ساتھ سخت غداری کی اور بے وفائی کانمونہ دکھایا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں الگ ہوگئے ایک نے گرفتارکرادیا دوسرے نے لعنت بھیج کر انکارکر دیا ۔
مگر صحابہ ؓ ایسے ارادت مند اور جان نثار تھے کہ خود خداتعالیٰ نے ان کی شہادت دی کہ انہوں نے خداتعالیٰ کی راہ میں جانوں تک دینے میںدریغ نہیں کیا اور ہر صفت ایمان کی ان میں پائی جاتیں ۔
جس قدر مصائب اور تکالیف صحابہ ؓ کو ابتدائے اسلام میںاٹھانی پڑیں ان کی نظیر بھی کسی اور