وہ کس سیدکودی گئی تھی ۔ بروز کی حقیقت پھر بروز کے متعلق سلسلہ کلام یوں شروع ہوا۔ فرنایا:۔ نیکوں بدوں کے بروزہوتے ہیں ۔ نیکوںکے بروزمیں جو موعود ہے وہ ایک ہی ہے یعنی مسیح موعود۔ہمار اعقیدہ یہ ہے کہ اھد ناالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم ( الفاتحہ : ۶،۷ ) نیکوں کا بروز او ر ضالین سے عیسائیوں کابروز اور مغضوب سے یہودیوں کا بروز مراد ہے اور یہ عالم بروزی صفت میں پیدا کیا گیا ہے جیسے پہلے نیک یابد گزرے ہیں ان کے رنگ اور صفات کے لوگ اب بھی ہیں خدا تعالیٰ ان کے اخلاق اور صفات کو ضائع نہیں کرتا ۔ ان کے رنگ میں اور آجاتے ہیں جب یہ امر ہے تواس سے انکار نہیں ہوسکتاکہ ابراراور اخیار اپنے اپنے وقت پر ہوتے ر ہیںگے اور یہ سلسلہ قیامت تک چلاجاوے گا جب یہ سلسلہ ختم ہوجاوے گاتو دنیا کابھی خاتمہ ہے لیکم وہ موعود جس کے سپرد عظیم الشان کام ہے وہ ایک ہی ہے کیونکہ جس کاوہ بروزہے ۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھی ایک ہی ہے ۔ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا حضرت حکیم الامتہ نے مولوی ابو رحمت حسن صاحب کاذکر سنایا کہ وہ بڑے اخلاص سے خط لکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے خط مین لکھا ہے کہ اس آیت پر مخالف اعتراض کرتے ہیں کہ یہ تہذیب کے خلاف ہے فرمایا کہ جو خدا تعالیٰ کو خالق سمجھتے ہیں توکیا اس خلق کو لغو اور باطل قرار دیتے ہیں جب اس نے ان اعضاء کو خلق کیا اس وقت تہذیب نہ تھی خالق مانتے ہیں اور خلق پر اعترا ض نہیں کرتے تو پھر اس ارشاد پر اعتراض کیوں؟دیکھنا یہ ہے کہ زبان عرب میں اس لفظ کااستعمال ان کے عرف کے نزیدیک کوئی خلاف تہذیب امر ہے جب نہیں تو دوسری زبانوں والوں کاحق نہیں کہ اپنے عرف کے لحاظ سے اسے خلاف تہذیب ٹھہرائیں۔ ہر سوسائٹی کے عرفی الفاظ اور مصطلحات الگ الگ ہیں ۔ ۱؎