گزرے ہیں اور اس وقت کے پیدا ہوئے بچے بھی اب بچوںکے باپ ہیں اس میں ساری باتیں درج ہیں بناوٹ کامقابلہ اس طرح پر ہوسکتا ہے ؟کیاتیس برس پہلے ایک شخص ایسا منصوبہ کر سکتا ہے ؟ جبکہ اسے اتنا بھی یقین نہیں کے وہ اس قدر عرصہ تک زندہ رہے گا ج۔ پھر کیونکر میں اپنانام اتنے سال پہلے از خود عیسیٰ رکھ سکتا تھا اور ان کاموں کوجو اس کے ساتھ منسوب تھے اپنے ساتھ منسوب کرتا ۔ ہاں اس سے منصوبہ بے شک پایا جاتا اگر میں اس وقت لکھ دیتا کہ آنے والا میں ہی ہوں مگر اس وقت نہیں کہا باوجود یہ کہ ھوالذ ی ارسل رسولہ بالھدی کااعتراف کیاہے کہ میرے حق میںیہ خدا کاکام تھا کہ کمسیح کادعویٰ تواس میں بیان کیا گیا مگراس کو چھپایااورزبان سے یہ نکلوا دیاکہ وہ آئے گا میں حلفاً کہتا ہوں کہ آج جودعویٰ کیا گیا ہے براہین میں یہ سارا موجود ہے کہ ایک لفظ بھی کم بیش نہیں ہو اگر اس میں الہامات نہ ہوتے تواعتراض کی گنجائش ہوتی گو اس وقت بھی اعتراض فضول ہوتا کیونکہ وہ دعویٰ وحی سے نہیں تھا بلکہ اپنی ذاتی رائے تھی خداتعالیٰ نے یہ اس لئے کیا تا ظنون اور جعل سازی کے وہم دور ہوں ۔ مسیح موعو د کے قریشی ہونے کی حقیقت دوسرا سوال ان کا اس امر پر تھا کہ آپ ؐ نے مسیح موعود کو لکھا ہے کہ وہ قریش میں سے نہیں اور پھر بعض جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ قریشی ہے ا س کی مطابقت کیونکر ہو ؟ فرمایا : ۔ مسیح موعود کو جس طرزپر کہتے ہیں کہ وہ قریش میں سے نہیں وہ اس اعتبار سے نہیں جیسے قریش ہیں اہل فارس کو رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں سے تھہڑایا ہے اور میرا الہام بھی ہے سلمان منا اھل البیت اسی نام سے مجھے اہل بیت میں داخل کیا ہے داخل کرنا اور بات ہے اور ہونا اور ۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار ہے اہل فارس کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت اور قریش سے ٹھہرایا ہے ا س لئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلام سے قریش اور اہل بیت میں ہوں ۔ اس پر حضرت حکیم الامتہ نے یسلب الملک من قریش کاذکر کر کے عرض کیا کہ حضور ہم قریشیوں سے ملک چھینا گیا مگر کسی نے ہماری قوم سے غور نہیں کی کہ کیوں ایسا ہوا۔تکبر کا اتنا بڑا خطرناک مرض ہماری قوم میں ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں ۔سید لڑکی کسی دوسرے کے گھر میں دینا کفر سمجھا گیا ہے اس پر میر صاحب نے کہا کہ ہم سے کوئی پوچھاکرتا ہے تواس کو یہی جواب دیا کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن او ر امام حسین رضی اللہ عنہا کی ایک بہن تھی کوئی ہمیں بتائے