اور دوسری طرف ہم اپنے اسی قلم سے مسیح کے دوبارہ آنے کا اقرار کرتے ہیں اب ایک دانشمند اور خدا ترس مسلمان اس معاملہ میں غور کرے اور دیکھے کہ اگر یہ دعویٰ ہمارا افتراء ہوت ااور ہم نے ازخود بنایا ہت ایا منصوبہ بازی ہوتی تو اس قسم کا اقرار ہم اس میں کیوں کرتے یہ سادگی صاف بتاتی ہے کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے ہم کو علم دیا اسے ہم نے ظاہر کیا بظاہر یہ کاروائی متنا قض ہے مگر ایک سعید فطرت انسان کے لئے ایک روشن تر دلیل ہے کیونکہ جب تک خدا تعالیٰ نے ہم پر نہیں کھولا باوجود یکہ ہمارے ساتھ وہی وعدے جو مسیح موعود کے ساتھ کئے جاتے اور اسی براہین میں میرا نام مسیح رکھا جاتا ہے اور ھوالذی ارسل رسولہ ۰الایۃ) الہام ہوتا ہے مگر اسی قلم سے میں لکھتا ہوں کہ مسیح موعود دوبارہ آئے گا ہم نے قیام فی ما اقام اﷲ کو نہیں چھوڑا جب تک کہ آفتاب کی طرح کھل نہیں گیا یہی اعتراض ہامری سچائی کا گواہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلے پہل وحی آئی تو آپ نے یہی فرمایا خشیت علی نفسی بیوی کہتی ہے کلا لا واﷲ اور پھر بیوی نے کہا کہ آپؐ ضعفاء کے مدد گار ہیں آپ کو خد اضائع نہیں کرے گا پھر خدا تعالیٰ نے جب آپ پر امر نبوت کو واضح طو رپر کھول دیا تو آپ نے تبلیغ اور اشاعت میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔مومن اس مقام کو جہاں ہوتا ہے نہیں چھوڑتا جب تک خدا نہ چھڑائے۔ -3-4-05 مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے ضمناً عرض کیا کہ تعجب کی بات ہے ایک قوم اور بھی تو ہے جس نے خدا کی اس راستباز اورصادق مسیح موعود کو تسلیم کیا ہے اور وہ اس پر ایمان لائی ہے اس کے سامنے کیا یہ باتیں نہیں ہیں ؟ مگر ان کو ان پر کوئی اعتراض نہیں معلوم ہوتا بلکہ ایمان بڑھتا ہے اور اس کی سچائی پر ایک عرفانی رنگ کی دلیل پیدا ہوتی ہے حضرت اقدس نے سن کر فرمایا بے شک یہ تو سچائی کی دلیل ہے نہ اعتراض ۔ کیونکہ ماننا پڑے گا کہ تصنع سے یہ دعویٰ نہیںکیا گیا بلکہ میرا نام عیسیٰ رکھا اور لکھا کہ لیضھر ہ علی الدین کلہ میرے حق میں ہے اور ادھرکوئی توجہ نہیں ۔ پس اس سے صاف ثابت ہوتاہے کہ اگر میرایہ کام ہوتاتواس میں دوبارہ آنے کا اقرار نہ ہوتا ۔یہ اقرار ہی بتاتا ہے کہ یہ خدا کاکام ہے اس پر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے اس نکتہ سے خاص ذوق اٹھا کاعرض کیا کہ یہ بعینہ وہی بات ہے جو قران شریف کی حقانیت پر پیش کی جاتی ہے کہ اگر یہ آنحضرت کاکلام ہوتا تواس میں زینب کاقصہ نہ ہوتا ۔حضرت اقدس نے پھر اس کلام میں فرمایا کہ اب کونسی نئی بات ہے جس کاذ کربراہین کو طبع ہو ئے پچیس برس کے قریب ہو