گھر چلی گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی کہا کہا اگر ارتکاب کیا ہے تو توبہ کر لے ان واقعات کو دیکھ کر صاف معلوم ہوت اہے کہ آپؐ کو کس قدر اضطراب تھا مگر یہ راز ایک وقت تک آپ پر نہ کھلا لیکن جب خدا تعالیٰ نے اپنی وحی سے تبریہ کیا اور فرمایا الخبیثت للخبیثین…والطیبت لطیبین (النور : ۲۷) تو آپ کو اس افک کی حقیقت معلوم ہوئی اس سے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی فرق آتا ہے؟ ہرگز نہیں وہ شخص ظالم اور ناخدا ترس ہے جو اس قسم کا وہم بھی کرے۔اور یہ کفر تک پہنچتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء علیہم السلام نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ وہ عالم الغیب ہیں۔عالم الغیب ہونا خدا کی شان ہے۔یہ لوگ سنت انبیاء علیہم السلام سے اگر واقف اور آگاہ ہوں تو اس قسم کے اعتراض ہرگز نہ کریں افسوس ہے کہ ان کو گلستان بھی یاد نہیں جہاں حضرت یعقوبؑ کی حکایت لکھی ہے ؎ یکے پُرسید زاں گم کردہ فرزند کہ اے روشن گہر پیر خرد مند زمصرش بوئے پیراہن شمیدی چرا در چاہ کنعانش نہ دیدی بگفت احوال ما برق جہاں است دمے پیدا و دیگر دم نہاں است گہے بر طارم اعلیٰ نشینم گہے بر پشت پائے خود نہ بینم اگر درویش بر یک حال ماندے سر دست از دو عالم بر فشاندے یہ سچی بات ہے اور ہمیں اس کا اعتراف ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے دکھائے بغیر نہیں دیکھتے اور اس کے سنائے بغیر نہیں سنتے اور اس کے سمجھائے بغیر نہیں سمجھتے۔اس اعتراف میں ہمارا فخر ہے ہم نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ ہم عالم الغیب ہیں ہم نے انہیں خیالات کے مسلمانوں میں نشونما پایا تھا ایسا ہی مہدی و مسیح کے متعلق ہمارا علم تھا مگر جب خدا تعالیی نے اصل راز ہم پر کھولا اور حقیقت بتادی تو ہم نے اس کو چھوڑ دیا اور نہ خود چھوڑا بلکہ دوسروں کو بیھ اس کی طرف اسی کے حکم سے دعوت دی اور اس کو چھڑایا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جس امر کو نادان اعتراض کے رنگ میں پیش کرتا ہے اسی میں ہمارا فائدہ ارو ہماری تائید ہوتی ہے دیکھو براہین میں ایک طرف مجھے مسیح موعود ٹھہرایا ہے اور وہ تمام وعدے جو آنے والے مسیح کے حق میں ہیں میرے ساتھ کئے