پس یاد رکھو کہ اگر کوئی شاذ مومن اس سے مرجاوے تو اﷲ تعالیٰ اپنی ستّاری س یاس کی پردہ پوشی فرماتا ہے اور اس کے لئے کہا گیا کہ وہ شہادت کی موت مرتا ہے ماسوا اس کے میں نے بارہا کہا ہے کہ اگر کوئی حدیث قرآن شریف کے متعارض ہو اور اس کی تاویل قرآن شریف کے موافق نہ ہ تو اسے چھوڑ دینا چاہئے حکم ہمیشہ کثرت پر ہوت اہے شاز تو معدوم کا حکم رکھتا ہے۔ دربارِ شام بعد ادائے نماز مغرب اول چند آدمیوں نے بیعت کی پھر مفتی محمد صادق صاحب نے ڈوئی کے اخبار سے چند پیراگراف سنائے فرمایا : یہ لغو اور کفر تو ہوتا ہے مگر اس سے تحریک ہو جاتی ہے اور تحریک بچہ کے بازیچہ سے بھی ہو جاتی ہے۔ یہی اعتراض میری سچائی کا گواہ ہے ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے منشی رحیم بخش عرضی نویس کا خط پیش کیا جس میں دو سوال لکھے تھے پہلا سوال یہ تھا کہ براہین میں مسیح کی آمد ثانی کا اقرار تھا کہ وہی مسیح آئے گا پھر اس کے خلاف دعویٰ کیا گیا یہ نزلزل بیانی قابل اعتبار نہیں ہوگی فرمایا:- ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہم نے ایس الکھا ہے اور ہمیں یہ بیھ دعویٰ نہین ہے کہ ہم عالم الغیب ہیں ایسا دعویٰ کرنا ہمارے نزدیک کفر ہے اصل بات یہ ہے کہ جب تک اﷲ تعالیٰ کی طرف س یہدایت نہ آوے ہم کسی امر کو جو مسلمانوں میں مروج ہو چھوڑ نہیں سکتے۔ براہین احمدیہ کے وقت اس مسئلہ کی طرف اﷲ تعالیٰ نے ہمیں توجہ نہیں دلائی۔پھر جبکہ ایک چرخہ کاتنے والی بڑھیا بھی یہی عقیدہ رکھتی تھی اور جانتی تھی کہ مسیح دوبارہ آئے گا تو ہم اس کو کیسے چھوڑ سکتے تھے جب تک کہ خدا کی طرف سے صریح حکم نہ آجاتا اس لئے ہمارا بھی یہی خیال تھا۔مخالفوں کی بے ایمانی ہے کہ ایک خیال کو وحی یا الہام بنا کر پیش کرتے ہیں ۔براہین میں یہ بات عامیانہ اعتقاد کے رنگ میں ہے نہ یہ کہ اس کی نسبت وحی کا دعویٰ کیا گیا ہو مگر جب خدا تعالیٰ نے ہم پر بذریعہ وحی اس راز کو کھول دیا اور ہم کو سمجھایا اور یہ وحی تواتر تک پہنچ گئے تو ہم نے اس کو شائع کر دیا۔انبیاء علیہم السلام کی بھی یہی حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ کسی امر پر اطلاع دیتا ہے تو وہ اس سے ہٹ جاتے ہیں یا اختیار کرتے ہیں۔دیکھو۔افک عائشہ ؓ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اول کوئی اطلاع نہ ہوئی یہاں تک نوبت پہنچی کہ حضرت عائشہؓ اپنے والد کے