۲۸؍اکتوبر ۱۹۰۲ء
(بوقت صبح کی سیر)
طاعون
حسب معمول آپ حلقہ خدام میں سیر کو نکلے طاعون کا تذکرہ سروع ہونے پر فرمایا کہ :-
قرآن شریف میں اس کو
رجز من السماء (البقرہ : ۶۰)
کہا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس پر انسانی ہاتھ نہیں پڑسکتا اور نہ زمینی تدابیر اس کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ورنہ یہ عذاب آسمانی نہ رہے۔
طاعون جو اس کا نام رکھا ہے یہ مبالغہ کا صیغہ ہے جیسے فاروق۔جب طعن اور تکذیب حد سے گذر جاتی ہے تو پھر اس کی پاداش میں طاعون ئتی ہے اور پھر صھائی کر کے ہی قہر الٰہی بس کرتا ہے۔
دابۃالارض اور طاعونؔ میں تعلق
عرض کیا گیا کہ
دابۃالارض (سبا : ۱۵)
اور
رجزمن السماء
میں کیا تعلق ہے؟
فرمایا :-
امر تو آسمانی ہی ہوتے ہیں یعنی اس طاعون کا امر آسمان سے آتا ہے اور وہ انسانی ہاتھوں سے بالاتر اہے اور اس کا معالجہ بھی آسمان ہی سے آتا ہے دبۃالارض طاعون کو کہتا ہیں اس لئے کہ اس کے کیڑے تو زمینی ہی ہوتے ہیں۔
طاعونی موت شہادت ہوتی ہے
عرض کیا گیا کہ طاعون سے مرنا شہادت بتاتے ہیں۔تو پھر عذاب کیونکر ہوا
فرمایا جو لوگ طاعون سے مرنا شہادت بتاتے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ طاعونی موت تو عذا ب الٰہی ہی ہے لیکن جو حدیث میں آیا ہے کہ اگر مومن ہو کر طاعون میں مرجاوے تو شہادت ہے۔تو یہ اﷲ تعالیٰ نے گویا ہر مومن کی پردہ پوشی کی ہے۔کثرت سے اگر مرنے لگیں تو شہادت نہ رہے گی۔پھر عذاب ہو جائے گا سہادت کا حکم شاذ کے اندر ہے کثرت ہمیشہ کافروں پر ہوتی ہے۔
اکثر یہ ایسی ہی شہادت اور برکت والی بات تھی تو اس کا نام رجزمن السماء نہ رکھا جاتا اور کثرت سے مومن مرتے اور انبیاء مبتلا ء ہوتے مگر کیا کوئی کسی نبی کا نام لے سکتا ہے؟ ہر گز نہیں