العاقبۃللمتقین ہمارے ناظرین منشی شاہدین صاحب سٹیشن ماسٹر مردان سے خوب واقف ہیں وہ اس سلسلہ میں قابل قدر شخص ہیں تبلیغ و اشاعت کا سچا شوق رکھتے ہیں جہاں جاتے ہیں ایک جماعت ضرور بنا دیتے ہیں الحکم کے خاص معاونین میں سے ہیں بہر حال ناظرین یہ بیھ جانتے ہیں کہ مردان میں بعض شریر النفس لوگوں کی طرف سے ان کو سخت ایذائیں دی گئیں اور آخر ان کی شرارت سے ان کی تبدیلی ہو گئے۔حضرت اقدس کے حضور جب ان کی تکالیف اور مصائب کا ذکر ہوا تھا تو آپ نے صبر اور استقابت کی تعلیم دی تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر خدا تعالیٰ نے اظہار حق کیا افسران بالادست نے بدوں کسی قسم کی تحریک کے جو منشی صاحب کی طرف س یکی جاتی ۔از خود اس مقدمہ کی تفتیش کی اور انجام کار منشی شاہدین صاحب ترقی پر گوجر خان ایک عمدہ سٹیشن پر تبدیل ہوئے اور ان کے متعلق بہت ہی اطمینان بخش رائے افسروں نے قائم کی غرض جب منشی صاحب کی اس کامیابی کا ذکر ہوا فرمایا۔- عاقیت متقی کے لئے ہے برگردن اوربماندما بگذشت والا معاملہ ہو گیا خدا تعالیٰ نیک نیت حاکم کو اصلیت سمجھا دیتا ہے اگر اصلیت نہ سمجھیں تو پھر اندھیر پید اہو۔ بغداد کی تباہی بغداد وغیرہ کی تباہی کے ذکر پر جو ہلا کونے کی۔فرمایا کہ :- بدکاری حد سے بڑھ گئے تھی۔آخر خدا تعالیٰ نے اس طرح پر انکو تباہ کیا لکھا ہے کہ آسمان سے آواز آتی تھی ’’ایھا الکفار اقتلو االفجار‘‘۔ فرمایا- صادق مخالفوں کی شرارت اور ایذارسانی س یاگر مارا بی جاتا ہے تو وہ شہید ہوتا ہے مگر وہ ناعاقبت اندیش طاعون کا سکا ر ہونے کو باقی رہ جات یہیں جو ان کی شامت اعمال سے آتی ہے۔ اذان ایک عمدہ شہادت ہے اذان ہو رہی تھی آپ نے فرمایا :- کیسی عمدہ شہادت ہے جب یہ ہوا میں گونجتی ہوئی دلوں تک پہنچتی ہے تو اس کا عجیب اثر پڑتا ہے دوسرے مذاہب کے جس قدر عبادت کے لئے بلانے کے طریق ہیں وہ اس کا مقابلہ نہیں