یملکھا نہیں فرمایا اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ وارث اس کے مسلمان ہی رہیں گے اور اگر یہ کسی اور کے قبضہ میں کسی وقت چلی بھی جاوے تو قبضہ اسی قسم کا ہوگا جیسے راہن اپنی چیز کا قبضہ مرتہن کو دے دیتا ہے یہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی کی عظمت ہے ارض شام چونکہ انبیاء کی سر زمین ہے اس لئے اﷲ تعالیٰ اس کی بے حرمتی نہیں کرنا چاہتا کہ وہ غیروں کی میراث ہو۔ یرثھا عباری الصالحون (الانبیاء : ۱۰۴) فرمایا صالحین کے معنے یہ ہیں کہ کم ازکم صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو۔ مومنوں کی مدارج مومن کی جو تقسیم قرآن شریف میں کی گئے ہے اس کے تین ہی درجے اﷲ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔ظالم۔مقتصد۔سابق بالخیرات۔یہ اسن کے مدارج ہیں ورنہ اسلام کے اندر یہ داخل ہیں۔ظالم وہ ہوت اہے کہ ابھی اس میں بہت غلطیاں اور کمزوریاں ہیں اور متقصد وہ ہوتا ہے کہ نفس اور شیطان سے اس کی جنگ ہوتی ہے مگر کبھی یہ غالب آجاتا ہے اور کبھی مغلوب ہوتا ہے جو ان دونوں درجوں سے نکل کر مستقل طو رپر نیکیاں کرنے میں سبقت لے جاوے اور بالکل صلاحیت ہی ہو۔نفس شیطان کو مغلوب کر چکا ہو قرآن شریف ان سب کو مسلمان ہی کہتا ہے۔ ہماری جماعت ہی کو دیکھ لو کہ وہ ایک لاکھ سے زیادہ ہے اور یہ سب کی سب ہمارے مخالفوں ہی سے نکل کر بنی ہے اور ہر روز جو بیعت کرتے ہیںیہ اسن میں ہی س آتے ہیں ان میں صلاحیت اور سعادت نہ ہوتی تو یہ کس طرح نکل کر آتے۔بہت سے خطوط اس قسم کی بیعت کرنے والوں کے آتے ہیں کہ پہلے میں گالیاں دیا کرتا تھا مگر اب توبہ کرتا ہوں مجھے معاف کیا جاوے۔غرض صلاحیت کی بنیاد پر قدم ہو تو وہ صالحین میں داخل سمجھا جاتا ہے۔ مسیح کا جنازہ بعد ادائے نماز مغرب جب ہمارے سید ومولیٰ شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے تھے تو ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب رعیہ نے عرض کی کہ ایک شخص منشی رحیم بخش عرضی نویس بڑا سخت مخالف تھا مگر اب تحفہ گولڑویہ پڑھ کر اس نے مسیح کی موت کا تو اعتراف کر لیا ہے اور یہ بھی مجھ سے کہا کہ مسیح کا جنازہ پڑھیں۔میں نے تو یہی کہا کہ بعد استصواب و استمزاج حضرت اقدس جواب دوں گا۔ فرمایا :- جنازہ میت کے لئے دعا ہی ہے کچھ حرج نہیں۔وہ پڑھ لیں۔