۲۷؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ (بوقت صبح کی سیر) یروشلم اور بیت المقدس سے مراد اس تذکرہ پر کہ عیسائی اور یہودیوں میں پھر اس امر کی تحریک ہو رہی ہے کہ ارض مقدس کو ترکوں س یخرید لیا جاوے مختلف باتوں کے دوران میں فرمایا :- یروشلم سے مراد در اصل دارالامن ہے یروشلم کے معنی ہیں وہ سلامتی کو دیکھتا ہے یہ سنت اﷲ ہے کہ وہ پیشگوئیون میں اصل الفاظ استعمال کرتا ہے اور اس سے مراد اس کا مفہوم اور مطلب ہوتا ہے۔ اسی طرح پر بیت المقدس یعنی مسجد اقصی ہے ہماری اس مسجد کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ رکھا ہے کیونکہ اقصیٰ یا باعتبار بعد زمانہ کے ہوت اہے اور یا بعد مکان کے لحاظ سے اور اس الہام میں المسجدالاقصی الذی بارکنا حولہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات زمانی کو لیا ہے اور اس کی تائید واخرین منھم لما یلحقو ابھم (الجمعہ : ۴) سے بھی ہوتی ہے اور بارکنا حولہ کا اس زمانہ کی برکات س یثبوت ملتا ہے جیسے تیل گاڑی اور جہازوں کے ذریعہ سفروں کی آسانی اور تاروڈاک خانہ کے ذریعہ سلسلہ رسل ورسائل کی سہولت اور ہر قسم کے آرام و آسائش قسم قسم کی کلوں کے اجراء سے ہوتے جاتے ہیں اور سلطنت بھی ایک امن کی سلطنت ہے۔ بنی اسرائیل بنی اسرائیل خد اتعالیٰ کا دیا ہوا لقب ہے اسرائیل کے معنے ہیں جو خدا سے بے وفائی نہیں کرتے اس کی اطاعت اور محبت کے رشتہ میں منسلک قوم-حقیقی اور اصلی طور پر اسلام کے یہی معنی ہیں بہت سی پیشگوئیوں میں جو اسرائیل نام رکھا ہے یہ قلت فہم کی وجہ سے لوگوں کو سمجھ نہیں آئی ہیں۔اسرائیل سے مراد اسلام ہی ہے اور وہ پیشگوئیاں اسلام کے حق میں ہیں۔ ان الارض یرثھا عبادی الصالحون (الانبیاء : ۱۰۴) فرمایا:- اس ئیت س یصاف معلوم ہوتا ہے کہ الارض سے مراد جو شام کی طرزمین ہے یہ صالحین کا ورثہ ہے اور جواب تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے خدا تعالیٰ نے یرثھا فرمایا