یہ وقت کیوں پیش آئی اس لئے کہ انجیل کی تعلیم فطرت کے موافق نہ تھی۔
مسیح کو صلیبؔ پر لٹکائے جانے کے دلائل
سوال کیا گیا کہ مسیح کو صلیب پر چڑھانا قرآن سے کہاں ثابت ہوتا ہے؟
فرمایا :-
ولکن شبہ لھم (النساء : ۱۵۸)
یہ واقعہ عیسائیوں اور یہودیوں کے متواترات سے ہے قرآن شریف اس کا انکار کیوں کرنے لگا تھا قرآن یا حدیث صحیح میں کہیں ذکر نہیں ہے کہ مسیح چھت پھاڑ کر آسمان پر چلا گیا۔یہ صرف خیالی امر ہے کیونکہ اگر مسیحؑ صلیب پر چڑھایا نہیں گیا اور وہ کوئی اور شخص تھا۔تو دو صورتوں سے خالی نہیں یا دوست ہوگا یادشمن۔پہلی صورت میں مسیح نے اپنے ہاتھ سے ایک دوست کو ملعون بنایا جس لعنت سے خود بچنا چاہتا تھا اس کا نسانہ دوست کو بنایا۔یہ کون شریف پسند کر سکتا ہے پس وہ حواری تو ہو نہین سکتا اگر دشمن تھا تو چاہئے تھا کہ وہ دہائی دیتا اور شور مچاتا کہ میں تو فلاں شخص ہوں مجھے کیوں صلیب دیتے ہو میری بیوی اور رشتہ داروں کو بلائو میرے فلاں اسرار ان کے ساتھ ہیں تم دریافت کر لو۔
غرض اس تواتر کا انکار فضول ہے اور قرآن شریف نے ہرگز اس کا انکار نہیں کیا۔ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن شریف نے تکمیل صلیب کی نفی کی ہے جو لعنت کا موجب ہوتی تھے۔نفس صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی نہیں کی اس لئے ماقتلوہ کہا اگر یہ مطلب نہ تھا تو پھر ماقتلوہ کہنا فضول ہو جائے گا یہ ان کے تواترات میں کہاں تھا؟ یہ اس لئے فرمایا کہ صلیب کے ذریعہ قتل نہیں کیا پھر ماصلبوہ سے اور صراحت کی اور لکن شبہ لھم سے اور واضح کر دیا کہ وہ زندہ ہی تھا یہودیوں نے مردہ سمجھ لیا۔
اگر آسمان پر اٹھا لیا جاتا تو خد اتعالیٰ کی کدرت پر ہنسی ہوتی کہ اصل مقصود تو بچانا تھا یہ کیا تماشا کیا کہ دوسرے آسمان سے پہلے بچاہی نہ سکا۔چاہئے تھا کہ ایک یہودی کو ساتھ لے جاتے اور ئسمان سے گرادیتے تا کہ ان کو معلوم ہو جاتا۔
فرمایا :
رفعنا ہ مکانا علیا (مریم : ۵۸)
میں ان کو ماننا پڑا ہے کہ ادریسؑ مر گیا۔صدیق حسن خاں نے لکھا ہے کہ اگر حضرت ادریس کو ایسا مانیں تو پھر ان کے بھی واپس آنے کا عقیدہ رکھنا پڑتا ہے جو صحیح نہیں تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑکے لئے توفی موجود ہے۔؎ٰ