قرآن کریم کا تین
پوچھا گیا کہ قرآن کا جو نزول ہوا ہے وہ یہی الفاظ ہیں یا کس طرح؟
فرمایا :-
یہی الفاظ ہیں اور یہی خدا کی طرف سے نازل ہوا قرات کا اختلاف الگ امر ہے
ما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی (الحج : ۵۳)
میں لا محدث قرأت شاذہ ہے اور یہ قرأت حدیث صحیح کا حکم رکھتے ہے جس طرح نبی اور رسول کی وحی محفوظ ہوتی ہے اسی طرح محدث کی وحی بھی محفوظ ہوتی ہے جیسا کہ اس آیت سے پایا جاتا ہے۔
جبرائیل علیہ السلام کا نزول
پوچھا گیا جبرائیل کا نزول قلب پر ہوتا تھا یا ئواز آتی تھی فرمایا :-
اس میں بحث کی کچھ ضرورت نہیں جبرائیل کا تعلق قلب ہی س یہوتا ہے اور قرآن شریف میں یہ لفظ آیا بھی ہے مگر یہ عالم الگ ہی ہوتا ہے قرآن شریف جو تمام کتابوں اور علوم کا خاتمہ کرتا ہے اس لئے وہ بڑی اقویٰ وحی ہے اور شدت کے ساتھ اس کا نزول تھا۔
اسلام فطرتی مذہب ہے
ایک شخص نے اپنی رؤیا سنائی جس میں یہ آیت تھی
فطرت اﷲ التی فطر الناس علیھا (الروم : ۳۱)
فرمایا :-
اس کے معنی یہی ہیں کہ اسلام فطرتی مذہب ہے انسان کی نباوٹ جس مذہب کو چاہتی ہے وہ اسلام ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ اسلام میں بناوٹ نہیں ہے اس کے تمام اصول فطرت انسانی کے موافق ہیں۔تثلیث اور کفارہ کی طرح نہیں ہیں کہ جو سمجھ میں نہین ئسکتے۔عیسائیوں نے خود مانا ہے کہ جہاں تثلیث نہیں گئے وہاں توحید کا مطالبہ ہوگا کیونکہ فطرت کے موافق توحید ہی ہے اگر قرآن شریف نہ بھی ہوتا۔تب بھی فطرت انسانی توحید ہی کو مانتی ۔کیونکہ وہ باطنی شریعت کے موافق ہے ایسا ہی اسلام کی کل تعلیم باطنی شریعت کے موافق ہے برخلاف عیسائیوں کی تعلیم کے جو مخالف ہے دیکھو حال ہی میں امریکہ میں طلاق کا قانون خلاف انجیل پاس کرنا پڑا۔