فرمایا :- تدابیر مشہودہ سے الگ ہو کر جو فعل ہوتا ہے اس میں اعجازی رنگ ہوتا ہے معجزات جن باتوں میں صادر ہوتے ہیں ان میں سے بہت سے افعال ایسے ہوتے ہیں کہد وسرے لوگ بھی ان میںشریک ہوتے ہیں مگر نبی ان تدابیر اور اسباب سے الگ ہو کر وہی فعل کرتا ہے اس لئے وہ معجزہ ہوتا ہے اور یہی بات یہاں سلیمانؑ کے قصہ میں ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کیا لوگ قصائد نہ کہتے تھے؟ کہتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلام فصیح وبلیغ پیش کیا تو وہ جوڑ توڑ کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وحی سے تھا اس لئے معجزہ تھا کہ درمیان اسباب عادیہ نہ تھے۔آپ نے کوئی تعلیم نہ پائی تھی اور بدوں کوشش کے وہ کلام آپ نے پیش کیا۔غرض اسی طرح لوہا نرم کرنے کا معجزہ ہے کہ اس میں اسباب عادیہ نہ تھے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے اور معنی بھی ہوں مشکلات صعب سے بھی مراث لوہا ہوتا ہے۔وہ حضرت سلیمان پر آسان ہو گئیں مگر اصل اعجاز کا کسی حال میں انکار نہیں کرتے ورنہ اگر خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان نہ ہو تو پھر خد اکو کیا مانا؟ ہم اس کو خارق عادت نہیں مان سکتے جو کرآن شریف کے بیان کردہ قانون قدرت کے خلاف ہو۔مثلاً ہم احیاء موتی حقیقی کا کیوں انکار کرتے ہیں؟ اس لئے کہ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے فیمسک التی قضی علیھا الموت (الزمر : ۴۳) اسی طرح ہم یہ نہیں مان سکتے کہ خد ااپنے جیساکوئی اور خدا بھی بنالیتا ہے کیونکہ یہ اس کی توحید کے خلاف ہے یا یہ کہ وہ خود کشی نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی صفت حی و قیوم کے خلاف ہے اسی طرح اگر کوئی کہے کہ دنیا ہمیشہ رہے گی اور یہاں ہی دوزخ بہشت ہوگا‘ ہم نہیں مان سکتے۔اس کی صفت ملک یوم الدین (الفاتحہ : ۴) کے خلاف ہے اور اس کے خلاف جا ٹھیرتا ہے فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر (الشوری : ۸) ایسا ہی ہم مان نہیں سکتے کہ اسی جسم کے ساتھ آسمان پر بھی چڑھ سکتا ہے کیونکہ جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے کہا کہ تو آسمان پر چڑھ جا‘آپ نے یہی فرمایا سبحان ربی ھل کنت الا بشرارسولا(بنی اسرائیل : ۹۴) ایسا ہی مردے اگر واپس آسکتے تو چاہئے تھا کہ قرآن شریف ان کے لئے کوئی خاص قانون وراثت بیان کرتا اور فقہ میں کوئی باب اس کے متعلق بھی ہوتا غرض جو امور قرآن شریف کے بیان کردہ قانون کے خلاف ہیں ہم ان کو تسلیم نہیں کر سکتے۔