مسیح کی عصمت پھر مفتی محمد صادق صاحب نے رسالہ بے گناہی مسیح سنایا۔ اس کے ضمن میں مندجہ ذیل نکات آپ نے بیان فرمائے :- قرآن شریف میں خد اتعالیٰ کے اسماء مفعول کے لفظ میں نہیں جیسے قدوس تو ہے مگر معصوم نہیں لکھا کیونکہ پھر بچانے والا اور ہوگا۔ اس پر حضرت مولوی نور الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور وجودیوں سے جب کبھی مجھے کلام کرنے کا موقع ملا ہے میں نے یہی کہا ہے کہ خدا کا نام موجودنہیں لکھا کیونکہ موجود بمعنی مدرک ہے اور خدا تعالیٰ کی شان ہے لا تدرکہ الابصار (الانعام : ۱۰۴) اور پھر یہ لفظ صحابہ میں بھی نہیں بولا گیا۔ فرمایا :- جیسے مسیح پر کفر کا فتوٰ لگا کر ان کو صلیب پر چڑھایا گیا ایسا واقعہ کسی نبی کے ساتھ نہیں ہوا۔گناہ کا کمال کفر پر جاکرہوتا ہے اور مسیح پر یہودیوں نے کفر کا فتویٰ لگایا (ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں نے برخلاف اس کے آپ کو الامین اور المامون کہا۔مسیٰح کے مخالفوں کا ان کی نسبت کفر کا فتویٰ دینا اور آپؐ کے مخالفوں کا آپ کو الامین کہنا رتبہ اور درجہ میں اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بڑا فرق بتاتا ہے۔؎ٰ ۲۶؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ مولوی جمال الدین صاحب ساکن سید والا نے سوال کیا کہ حضرت زکریا ؑ کی بابت جو آیا ہے کہ الاتکلم الناس ثلثۃ ایام الا رمزا (آل عمران : ۴۲) کیا اس سے یہ مراد ہے کہ وہ کلام نہ کریں گے۔فرمایا :- اس سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ لاتستطیع نہیں کہا۔ معجزہ کی حقیقت سلیمان ؑ کیلئے جو آیا ہے کہ لوہا نرم کر دیا اس نے کیا مراد ہے؟