کہہ کر مسیح موعود کو اپنا بروز بتا دیا ہے۔ معراج ایک کشف تھا بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات اسی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں مگر وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریھ اس کو رد کرتا ہے اور حضرت عائشہ ؓ بھی رؤیا کہتی ہیں۔ حقیقت میں معراج ایک کشف تھا جو بڑا عظیم الشان اور صاف کشف تھا اور اتم اور اکمل تھا کشف میں اس جسم کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کشف میں جو جسم دیا جاتا ہے اس میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوتا بلکہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور آپؐ کو اسی جسم کے ساتھ جو بری طاقتوں والا ہوتا ہے معراج ہوا۔ پھر آپ نے ا س امر کی تائید میں چند آیات سے استدلال کیا کہ جسم آسمان پر نہیں جاتا یہ باتیں قریباً پہلے ہم بار بار درج کر چکے ہیں بخوف طوالت اعادہ نہیں کرتے۔ مسیح کی پیدائش اور خارق عادت اُمور مسیح کی پیدائش کے ذکر پر فرمایا کہ خدا کی سنت دو طرح پر ہوتی ہے ایک کثرتی جیسے عموماً عورت سے دودھ نکلتا ہے مگر بعض اوقات نر سے بھی نکلا کرتا ہے ایسے واقعات دنیا میں ہوئے ہیں یہ قلیل الوقوع واقعات خارق عادت کہے جاتے ہیں۔ ۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ دربار شام برادر مکرم محمد یوسف صاحب اپیل نویس نے اپنے گائوں میں بعض لوگوں کے شکوک کے رفع کرنے کے واسطے بعض احباب کو حضرت اقدس کے ایما سے لے جانا چاہا اس کی تجویز ہوئی کہ مولوی عبد اﷲ صاحب اور مولوی سرور شاہ صاحب کو بھیجا جاوے۔