کتابُ اﷲ،سنّت اور حدیث
پھر آپ نے واضح اور بین طور پر اس مضمون پر کلام کیا کہ
ہمارے نزدیک تین چیزیں ہیں ایک کتاب اﷲ دوسرے سنت یعنی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور تیسرے حدیث۔ہمارے مخالفوں نے دھوکا کھایا ہے کہ سنت اور حدیث کو باہم ملایا ہے ہمارا مذہب حدیث کے متعلق یہی ہے کہ جب تک وہ قرآن اور سنت کے صریح مخالف اور معارض نہ ہو اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے خواہ وہ محدثین کے نزدیک ضعیف سے ضعیف کیوں نہ ہو جب کہ ہم اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں تو کیوں حدیث میں آئی ہوئی دعائیں نہ کریں جب کہ وہ قرآن شریف کے مخالف بھی نہیں۔قرآن شریف پر حدیث کو قاضی بنانا سخت غلطی ہے اور قرآن شریب کی بے ادبی ہے۔حضرت عمر ؓ کے سامنے ایک بڑھیا نے حدیث پیشکی تو انہوں نے یہی کہا کہ میں ایک بڑھیا کے لئے قرآن شریف نہیں چھوڑ سکتا۔ایسا ہی حضرت عائشہ ؓ کے سامنے کسی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے ماتم کرنے سے مردہ کو تکلیف ہوتی ہے تو انہوں نے یہی کہا کہ قرآن میں تو آیا ہے
لا تزر وازرۃ وزراخری (انعام : ۱۶۵)
پس قرآن پر حدیث کو قاضی…بنانے میں اہل حدیث نے سخت غلطی کھائی۔
اصل بات یہ ہے کہ اپنی موٹی عقل کی وجہ سے اگر کوئی چیز قرآن میں نہ ملے تو اس کو سنت میں دیکھو اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جن باتوں میں ان لوگوں نے قرآن کی مخالفت کی ہے خود ان میں اختلاف ہے ان کی افراط تفریط نے ہم کو سیدھی اور اصل راہ دکھا دی جیسے یہودیوں اور عیسائیوں کی افراط اور تفریط نے اسلام بھیج دیا۔
پس حق بات یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کے ذریعہ تو اتر دکھا دیا ہے اور حدیث ایک تاریخ ہے اس کو عزت دینی چاہئے سنت کا آئینہ حدیث ہے۔
یقین پر ظن کبھی قاضی نہیں ہوتا کیونکہ ظن میں احتمال کذب کا ہے امام اعظم رحمۃاﷲعلیہ کا مسلک قابل قدر ہے انہوں نے قرآن کو مقدم رکھا ہے۔
نزول اور ختمِ نبوّت کی حقیقت
احادیث میں مسیح موعود کے لئے نزول من السماء نہیں لکھا نزول کا لفظ ہے اور یہ ظلی معنی رکھتا ہے نہ کہ حقیقی۔نزیل لغت میں مسافر کو کہتے ہیں کیا وہ آسمان سے اتر تا ہے بہر حال قرآن ہر میدان میں فتح یاب ہے۔آپؐ کو خاتم النبیین ٹھہرایا اور
اخرین منھم لما یلحقو ابھم