حضرت اقدس نے فرمایا :-
قرآن سریف میں بھی ہے
لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحب السعیر (الملک : ۱۱)
یعنی اگر ہم شریعت پر چلتے یا کانشنس پر ہی عمل کرتے تو اصحب السعیر سے نہ ہوتے۔
موسیٰ پر الزام مکا مارنے کا جو عیسائی لگاتے ہیں‘اس کی نسبت فرمایا کہ
وہ گناہ نہیں تھا ان کا ایک اسرائیلی بھائی نیچے دبا ہوا تھا طبعی جوش سے انہوں نیایک مکا مارا وہ مر گیا جیسے اپنی جان بچانے کے لیء اگر کوئی خون بھی کر دے تو وہ جرم نہیں ہوتا۔موسیٰ ؑکا قول جو قرآن شریف میں ہے
ھذا من عمل الشیطن (القصص : ۱۴)
یعنی قبطی نے اس اسرائیلی کو عمل شیطان (فاسد ارادہ )سے دبایا ہوا تھا۔
پھر اس کتاب میں خود غرضی کو گناہ کہا تھا حضرت اقدس نے فرمایا کہ
ہر ایک خود غرضی گناہ میں داخل نہیں ہے جیسے کھانا پینا وغیرہ جب تک کہ وہ خلاف کانشنس یا شریعت نہ ہو جب خدا کے حکم کو توڑ کر کوئی شہوات کی خواہش کرے تو گناہ ہے اور جو (اشارہ مسیح) اپنے نفس کے لئے نجات چاہتا ہے یہ خود غرضی ہے کہ نہیں؟
مسیح کے گناہ اٹھانے پر فرمایا کہ
اس نے تمام کے گناہ اُٹھا کر پھر گناہ کیا کہ اس کو معلوم تھا کہ دعا قبول نہ ہوگی مگر پھر بھی کرتا ہی رہا۔؎ٰ
۲۳؍اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر)
قرآن کریم کا مقام
اس سلسلہ مضمون میں فرمایا کہ:-
مسلمانوں میں قرآن کی عظمت نہیں رہی۔شیعہ ہیں وہ ائمہ کے اقوال کو مقدم کرتے ہیں اور دوسرے فریق حدیثوں کے ظنی سلسلہ کو قرآن پر قاضی بناتے ہیں۔
اسی ذکر میں عبد اﷲ چکڑالوی اور محمد حسین کی بحث کا ذکر آگیا فرمایا :-
چکڑالوی نے تفریط کی ہے اور حدیث کو بالکل لا شئے سمجھا ہے اور محمد حسین افراط کی طرف گیا ہے کہ حدیث کے بغیر قرآن کو لا شئے سمجھتاہے۔