چاہئے اور مولوی عبدالکریم صاحب کو تاکید کی کہ
احباب کی توجہ چندہ کی طرف مائل کرنی چاہئے اور تاکید کرنی چاہئے کیونکہ یہ کام بغیر چندہ کے نہیں ہو سکتا۔
(اس مکان کی تعمیر کرنے کی علت غائی یہ ہے کہ توسیع مکان ہو جائے گی تو زیادہ احباب اس مٰن رہ سکیں گے اور خصوصیت کے ساتھ جو الہام
انی احافظ کل من فی الدار
ہے وہ تمام اس حفاظت خاص سے خصہ گیر ہو سکیں گے)
مولوی محمد علی صاحب نے ایک خط حامد سنو صاحب (ایک نو مسلم انگریز) کا پڑھ کر سنایا۔اس میں راقم نے اس امر پر تعجب کیا ہوا تھا کہ میگزین کی انگریزی مولوی محمد علی صاحب کی ہوتی ہے اور نیز راقم نے ایک کتاب تصنیف کی تھی اس کے متعلق بیان تھا کہ اگر اجازت ہو تو وہ حضرت اقدس کے نام مبارک پر طبع کی جاوے۔حضرت اقدس نے کہا کہ
اول وہ کتاب آجاوے دیکھ کر پھر رائے قائم کی جاوے گی۔
اور اس پر حضرت اقدس نے یہ بھی تجویز فرمایا کہ
ایک اہم ارشاد
اپنے عقائد کی ایک مختصر فہرست چھاپ دی جاوے کہ عقیدہ کے ہر پہلو کا اس میں بیان ہو معجزات۔فرشتے۔وحی۔حیات ووفات مسیح وغیرہ تا کہ جب کسی کو اپنے عقائد کی اطلاع دینی ہو تو جھٹ وہ روانہ کر دی جائے۔
میر ناصر نواب صاحب کی تائید پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ
مولوی محمد علی صاحب کا ایسی عمدہ انگریزی لکھنا ایک خارق عادت امر ہے چنانچہ انگریزوں نے بھی خیال کیا ہے کہ ہم نے کوئی یورپین رکھا ہوا ہے جو کہ انگریزی رسالہ لکھتا ہے۔
مولوی محمد علی صاحب نے بیان کیا کہ یہ خد اکا فضل ہی ہے ورنہ ا سلسلہ سے پیشتر میرا ایک حرف تک کہیں شائع نہیں ہوا۔
گناہ کی تعریف
مفتی محمد صادق صاحب حسب الارشاد حضرت اقدس ایک عیسائی کی کتاب سے گناہ کی حقیقت سناتے رہے اس کتاب میں ایک جگہ گناہ کی تعریف یہ لکھی تھی کہ جو امر کانشنس یا شریعت کے خلاف ہو وہ گناہ ہے۔