یہ بات شیعہ پر بڑی دلیل ہے وہ صرف دو آدمیوں کا نام لیتے ہیں جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوئے ہم کہتے ہیں کہ آیت تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری تھی نہ علیؓ پر اور نہ کسی اور پر۔اگر کہو کہ اس وقت ہی غل تھا تو معلوم ہوتا ہے کہ نعوذباﷲ صحابہ ایسے سخت دل تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار کہا اور سمجھایا مگر کسی نے آپ کا کہنا نہ مانا۔یہ کیونکر ہو سکتا ہے یہ تو بڑی بے ادبی ہے۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ بعد کی خبر ہے مگر خدا تعالیٰ کے سامنے یہ کوئی شئے نہیں اسی لئے فرماتا ہے کہ تم اس پر خیال نہ کرو یہ بشریت کے اختلاف ہیں ہم ان کو بھائی بھائی بنادیویں گے خدا تعالیٰ ہی نے یہ پیشگوئی کی کہ ایسا ہو گا بعض آپس میں لڑیں گے پھر سب سے آخر جولوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے نیز فرمایا :- وہ وہی گروہ تھے کہ جنہوں نے آپؐ کی صحبت نہ پائی مگر آپؐ کو دیکھ لیا۔ایسے لوگ تیسرے طبقہ میں ہیں اور بعض ان میں سے مرتد بھی ہو گئے تھے ان کی نسبت ہے کہ آپؐ (بروز قیامت) خدا تعالیٰ کو کہیں گے کہ یہ تو ایمان لائے تھے خدا تعالیٰ کہے گا ما تدری یعنی تجھ کو علم نہیں کیونکہ وہ لو آپ کی صحبت میں بہت قلیل رہے تھے اور وہی تھے جو پیچھے بعض ان میں سے مرتد بھی ہو گئے ارو زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے قتل ہوئے تھے اہل اسلام خود اس قسم کے مرتد مانتے ہیں جو صحابہ کہلاتے تھے مگر یہ تو قرآن ہے جو بتلاتا ہے کہ جو آپس میں موحدین ہوں گے ان میں بھی تفرقہ ہو گا ایک وہ موحّد تھے جنہوں نے کم وقت پایا اور پھر ان کی نسبت قرآن شریف نے کہا ہے قالت الاعراب امنا قل لم تو منو اولکن قولوااسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلو بکم (الحجرات : ۱۵) یعنی (یوں کہو کہ) ہم نے مقابلہ چھوڑ دیا لیکن ان کے دلوں میں ابھی ایمان داخل نہیں ہوا انہی کی طرف اشارہ ہے ورایت الباس یدخلون فی دین اﷲ افواجا (النصر : ۳) کجا صحابہ کی شان اور کجا یہ لوگ۔ایک گروہ جان دے چکا۔خدا نے روح القدس سے اس کی تائید کی۔ بعض وقت غیر محل پر ذکر کرنے سے ایک عالم بھی گھبرا جاتا ہے جیسے اگر کوئی شیعہ کہے کہ…کون ہے تو خدا نے بتلا دیا کہ یہ لوگ جو پیچھے آئے تھے اور داخل اسلام ہوئے تھے۔ (مغرب و عشاء) الدار کی توسیع مجوزہ مکان کی تعمیر کے واسطے میر صاحب کو ارشاد فرمایا کہ لکڑی کا بندوبست بہت جلد کرنا