مسیح ؑکاسلب ِ امراض کامُعجزہ
ہم کہتے ہیںکہ اسی طرح مسیح بھی بیماروں کو دیکھ کر انداز کر لیا کرتا تھا جو اچھے ہونے کے قابل نظر آتے تھے ان کا سلب امراض کر دیتا۔ اس طرح توسارے معجزات ان کے ہاتھ سے جاتے رہے
یومئذ یفرح المومنون ( الروم : ۵ )
منتر جنتر بھی سلب امراض ہی ہیں مگر بڑا خبیث کام ہے اس لئیے اسلام میں اس کی بجائے خدا پر توقع کاحکم دیا گیا ہے اور صرف روحانی امراض کے لئیے سلب رکھاگیا ہے جیسے
قد افلح من زکھا ( الشمس : ۱۰)
حضرت مسیح تو روحانی امراض کاسلب نہ کر سکے اس لئیے گالیا ں دئیے چلے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلب امراض کا نمونہ صحابہ ہیں ۔ ۱؎
صحابہ کامقام اور شیعوں پرحجت
اسی طرح آزمائش کروکہ خدااور رسول کی راہ میں کس نے صدق دکھلایا ۔ آپس کی رنجشیںخانگی امور ہوتے ہیں ان کا اثر ( صحابہ ) پر نہیں پڑ سکتا ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے
ونزعنامافی صدورھم من غل ( الحجر : ۴۸) اور علی سرر متقابین ( الحجر : ۴۸)۔
یہ ایک پیشگوئی ہے کہ آئندہ زمانہ میں آپس میں رنجشیں ہوں گی لیکن غِلّ
ان کے سینوں میں سے ہم کھنچ لیں گے وہ بھائی بھائی ہوں گے تختوں پر بیٹھنے والے ۔ اب شیعوںسے پوچھو کہ اس وقت زمانہ نبوی میں تو کوئی رنجش نہ تھی اور اگر ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آپس میں صلح کرادیتے آخر یہ بات آئندہ زمانہ میں ہونے والی تھی ورنہ ا س طرح پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حرف آتاہے کہ انہوں نے صلح کی کوشش توکی ہے مگر کامیاب نہ ہوئے ۔