غلاموں کے ۔ اگر وہ ( پگٹ ) ذرا دلیر بنے تو یہ (ڈوئی ) قابومیں آیا ہو اہے کیونکہ وہ اس کی مقررہ معیار کے اندرآگیا ہے ۔ کہدیوے کہ مسیح پانی کی طرح پگھل کر آسمان سے آیا ہے اور میرے اندر رچ گیا ہے ۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ دجال کے متعلق جب سوال ہو کہ کیا وہ ایسے اعلیٰ درجہ والاہوگا چاند سورج سب پر اختیار پاوے گا اور مردے زندہ کرے گا ؟ تو آپؐ نے فرمایا یہ جھوٹ ہے اسے رتی بھر اختیار نہ ہو گا صرف مکر اور حیلہ ہی ہوگا ۔ فرمایا:۔ ڈوئی نے ایک بات عجیب کی ہے کہ معجزات مسیح کی مٹی پلید کر دی ہے ۔سلب امراض کے معجزے ہی مسیح کی نسبت ان کے ہاتھا میں تھجے ویسے ہی ڈوئی بھی کرتا ہے اور جب کوئی اعتراض کر ے کہ تمہاری لڑکی اچھی نہ ہوئی توجواب دیتا ہے کہ مسیح سے بھی فلاں فلاں مریض اچھا نہ ہوا ۔ کیسے منحوس معجزے تھے جو شخص ان کے نزدیک کافر ہے وہ بھی معجزے دکھلاسکتا ہے حالانکہ موسیٰ ؑکی طرح اس نے سوٹے کو سانپ بنایااور نہ کچھ اور ۔ بس یہی ا ستدلال کافی ہے زہے خدائی کہ ایک کافر نے بھی وہی بات کر کے دکھادی ۔سلب امراض کوئی شئے نہیں یہودی بھی کرسکتے ہیں اور فاسق فاجر جو خداکی راہ سے غافل ہیں وہ بھی کر سکتے ہیں ڈوئی سے پوچھا جائے کہ مسیح کہ معجزات تو وہی ہیں جو تو کر رہا ہے او رتو ان لوگوں کے نزدیک کافر ہے اب بتلا کہ مسیح کے وہ معجزات کونسے ہیں جو اس کی خدائی پر دلیل ہیں ؟ آنحضرت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے زمانہ میں ایرانی لوگ مشرک تھے اور قیصر روم جو کہ عیسائی تھا دراصل موحد تھا اور مسیح کو ابن اللہ نہیں مانتا تھا اور جب اس کے سامنے مسیح وہ ذکر جو قرآنمیں درج ہے پیش کیا گیا تو اس نے کہا کے میرے نزدیک مسیح کادرجہ اس سے ذرہ بھی زیادہ نہیں جو قرآن نے بتلایا ہے حدیث میں بھی اس کی گواہی بخاری میں موجود ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ وہی کلام ہے جوتوریت میں ہے اس کی حثیت نبوت سے بڑھ کر نہیں ہے اسی پر یہ آیت نازل ہوئی الم غلبت الروم فی اد نی الارض وھم من بعد غلبھم سیغلبون فی بضع سنین للہ الامر من قبل ومن بعددیومئذیفرح المومنون ( الروم :۲تا ۵ یعنی روم اب مغلوب ہوگیا ہے مگر تھوڑے عرصہ میں ( ۹ سال میں ) پھر غالب ہوگا عیسائی لوگ نہایت شرارت سے کہتے کہ آنحضرت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دونوں طاقتوں کااندازہ کرلیاتھا اور پھر فراست سے یہ پیشگوئی کردی تھی ۔