اب تک کوئی ایسی بات نہ ثابت کرسکے کہ حضرت مسیح کو انسان سے بر تر کچھ خصوصیت ہے۔
ٹھاکر داس نے بھی مان لیا ہے کہ انجیل کتب سابقہ کاخلاصہ ہے کوئی نئی نہیں ہے مسیح صرف مصلوب ہونے کو آیا تھا ۔
ڈوئی کہ نزدیک انسان حقہ ‘ شراب اور سور کھانے سے کافر ہوجاتے ہے مگر انسان کو خدا بنانے سے نہیں ہوتا ۔دوسرے مشرک تو مثل چوہوں کے ہیں ان سے تووہ نفرت کرتا ہے اور جوبڑا بھاری مشرک ہاتھی کی مثل ہے اسے قبول کیا ہوا ہے قوم چونکہ اس شرک میں بہت ہی گرفتاردیکھا اس لئے دلیری نہ کر سکا کہ ان کی مخالفت کر ے ( مسیح کو خداماننے میں )
پگٹ
پگٹ کے ذکر پرفرمایاکہ
یہ لوگ بہت ہی گھبرائے ہوئے ہیں کہ آخر گھبرا گھبرا کر مسیح کو منگوارہے ہیں ۔ ڈوئی و پگٹ کے ودعاوی اشاعت پر فرمایا کہ
ان کی شہرت کاباعث اخبار ہوتے ہیں ان کے مقابلہ میں پنجاب کے اخبار تو گویا برائے نام ہیں وہاں تو ایک دن میں لاکھوںکو خبر ہوجاتی ہے ۔
ڈوئی کی نسبت اگر ہمارے مقابلہ پر پگٹ آئے تو بہت اثر ہوگا دجال ایک گردہ کانام ہے اور مسیح سیاحت کرنے والے کو کہتے ہیں ۔ان لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا کہ خدا کی کتابوں کی توڑ مر وڑکر اپنے منشاء کے مطابق بنا لیا اور پھر فلسفہ کے رنگ میں خدائی کادعویٰ کیا ان کی مثال ایسی ہے کہ ایک شاگر د استاد سے پڑھ رہا تھا سبق میں مثال آئی
’’ضرب زید عمروا ‘‘
شاگرد نے استاد سے پوچھا کہ زید نے عمرو کو کیوں مارا ؟استاد نے کہا کہ صرف ایک مثال ہے شاگرد نے کہا کہ یہ تواصل واقعہ ہے سبب بتلائیے کہ مار تک نوبت کیوں پہنچی ؟ آخر استادنے دیکھا کہ یہ پیچھا نہیں چھوڑتا تواس نے کہا کہ اب مجھے مار کر سبب یاد آگیا ہے کہ عَمرو نے و کاحرف چرا لیا ہے اور اپنے نام کے ساتھ لگا لیا ہے تب شاگرد نے کہا اب ٹھیک ہے باعث تو معلوم ہوگیا ۔
فرمایا :۔
پگٹ کو ضرور چٹھی لکھنی چاہئیے اگ مقابلہ کرے تو خوب اثر ہو گا اور لوگ بھی توجہ کریں گے ۔
مفتی صاحب نے کہا کہ چٹھی لکھ دی ہوئی ہے حضرت اقدس نے فرمایاکہ :۔
بہ نسبت امریکہ کے ولایت والوں کو ہم سے بہت واسطہ ہے اس کا اگر مقابلہ ہو ااوروہ مقابلہ لکھا جاوے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی نشان ظاہر کردے ڈوئی نے توکم مرتبہ اختیار کیا ہے مثل