دیا فرمایا کہ:- اس طرف جنگل ہے ادھر ہی چلئے۔جلد جنگل میں نکل جاتے ہیں۔ انبیاء کی پیشگوئیوں کا امتیاز نزول المسیح کے متعلق مفتی محمد صادق صاحب سے مخاسب ہو کر فرمایا کہ :- پیشگوئی کا جس قدر تکرار ہوگا وہ ایک نیا نشان ہوگا خدا کا عمیق علم اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن باتوں کا وجود بھی نہیں ہوتا۔ان کی قبل از وقت خبر دے دیتا ہے اس کا علم غیبوبیت س یپتہ لگتاہے جو کہ طاقتوں اور قدرتوں کے ساتھ بھرا ہوا ہوتا ہے اس علم میں غیب بھی ہوتا ہے اور طاقت بھی۔نجومی جھوٹا ہوتا ہے اس کے ساتھ طاقت نہیں ہوتی مگر انبیاء کی خبروں میں طاقت ہوتی ہے جیسے دشمن کا ادبار اور اپنا اقبال دشمن کو شکست اور اپنی فتح۔جو اسے نجومی کے ساتھ ملاتے ہیں وہ دھوکا کھاتے ہیں کیونکہ اس میں صراحت ہوتی ہے کہ وہ (نبی)ایسا وجود ہے کہ دشمن کو پامان کرنا چاہتا ہے یہ چھیڑ ثفاڑ جو عیسائیوں (کے اعتراضوں) کی ہوتی ہے آخرکسی حدتک بڑھتی جاوے گی مگر آخر کار فیصلہ ہوگا۔خدا تو ایک دم میں فیصہ کر سکتا ہے مگر وہ تماشہ دیکھنا چاہتا ہے زمین میں کشمکش رہتی ہے مگر آخر کار فرشتہ آکر ہاتھ مارتا ہے تو فیصلہ ہو جاتا ہے۔ ۲؎ ڈاکٹر الیگزینڈر ڈوئی پھر ڈوئی اور پگٹ کا ذکر ہوا کہ اسے اس ماہ کے آخر میں ہمارا رسالہ مل جاوے گا فرمایا :- معلوم نہیں اخبار میں ذکر کرے یا چپ رہے اس کے چپ رہنے سے معلوم ہوگا کہ وہ جسے خدا بنارہا ہے اسے کچھ جرات بھی ہے کہ نہیں۔اگر ذکگ نہ کیا تو معلوم ہو گا کہ اس عقیدہ میں اسے خود کھٹکا ہے جس جگہ اس نے ہاتھ ڈالا ہے اس کا اسے خود علم نہیں جو توحید پر نہیں ہوتا اسے اس کا قلب خود جھوٹا ثابت کرتا ہے ان لوگوں نے ہزاروں بحثیں کیں اور جلسے بھی کئے مگر