آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی جنگیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں پر فرمایا کہ وہ تو جائز طور پر جن کو مارنا تھا مار چکے مگر ان لوگوں (عیسائیوں ) نے لاکھوں خون نا جائز طور پر کئے عیسائی مذہبی جنگوں سے پتہ لگتا ہے کہ کس قدر خون ناحق ہوئے ہیں۔؎ٰ اسلامی جنگیں بالکل دفاعی لڑائیاں تھیں جب کفار کی تکالیف اور شرارتیں حد سے گذر گئیں تو خدا تعالیٰ نے ان کو طزا دینے کے لئے یہ حکم دیا مگر عیسائیوں نے جو مختلف اوقات میں مذہب کے ہام سے لڑائیاں کی ہیں ان کے پاس خدا تعالیٰ کی کونسی دستاویز اور حکم تھا جس کی رو سے وہ لڑتے تھے ان کو تو ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دینے کا حکم تھا۔ ۲؎ عُسر اور یُسر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق عظیم انسان کا خلق اس کی فتح اور کامیابی کے متعلق ہوتا ہے کہ جو کچھ صبر و غیرہ اخلاق فاضلہ مصیبت اور بلا کے وقت دکھلاتا ہے وہی فتح اور اقبال کے وقت دکھلاوے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں قسم کے وقتوں پر اخلاق دکھانے کا موقعہ ملا جو خلق عظیم تنگی اور بلا کے وقت آپ نے مکہ میں دکھلائے تھے وہی آپ نے بادشاہ ہو کر دکھلایا۔ حضرت مسیح کا کوئی شعبہ خلق کا دکھلائو وہ تو اس سے بالکل فارغ ہیں بلا ثبوت توجوگی بھی مدعی ہوسکتے ہیں کہ ہم نے نفس کو مارا ہوا ہے ستر بی بی ازبے چادری۔مسیح نے تو امام حسین ؑ جتنا حوصہ بھی نا دکھلایا کیونکہ ان کو مفر کی گنجائش تھی اگر چاہتے تو جاسکتے تھے مگر جگہ سے نہ ہلے اور سینہ سپر ہو کر جان دی اور مسیح کو تو مفرہی کوئی نہ تھا یہودیوں کی قید میں تھے حوصلہ کیا دکھلاتے ۔؎ٰ ۲۲ ؍اکتوبر ۱۹۰۲ء؁ بروز چہار شنبہ (بوقت سیر) حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے اور مشرقی جانب آپ نے چلنے کا حکم