ترقی مراتب ہے۔
پھر ایک اور مسلمان کا مضمون اسی پرچہ میں سے سنایا جس نے لفظ ذنب کے متعلق لکھا ہوا تھا اور حضرت اقدسؑ کے مضمون مندجہ انگریزی میگزین میں سے اس کا جواب اقتباس شدہ تھااس سخص نے اپنے جواب میں اس انگریزی میگزین کا حوالہ بھی دے دیا تھا اس سے حضرت اقدس بہت خوش ہوئے کیونکہ اس ترتیب سے علاوہ جواب معقول ہونے کے اس سلسلہ کی یہ تائید ہوئی کہ تیرہ چودہ ہزار آدمیوں میں میگزین کا اشتہار ہو گیا جن کے پاس یہ عیسائی پرچہ جاتا ہے۔
بپتسمہ کا ظاہر اور حقیقت
پھر عیسائیوں کے بپتسمہ دینے کے وقت جو پانی وغیرہ چھڑکا جاتا ہے اور بعض ان کے فرقے اس وقت نئے دیندار کو ایک چھوٹے سے حوض میں دھکا دے دیتے ہیں اس کے ذکر پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ
پانی کا لحاظ تو ہر ایک نے رکھ اہے ان لوگوں نے تالاب وغیرہ رکھا ہے اور قرآن نے گریہ وبکا کا پانی رکا ہے۔وہ ظاہر پر گئے ہیں اور قرآن شریف حقیقت پر گیا ہے جیسے
تری اعینھم تفیض من الدمع (المائدہ : ۸۴)
عیسائیت اور شریعت
عیسائی پرچہ اپی فینی میں قرآن کریم پر شریعت کے متعلق حملہ کیا ہوا تھا اور اس کے مقابل پر انجیل کو مبارک بتلایا ہاو تھا جس نے شریعت کو لعنت کہا ہے اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ :-
جب ان میں شریعت کوئی نہین ہیتو اگر ان کو کہا جائے کہ نجاست کھائو تو کھا سکتے ہیں اور ماں کے ساتھ زنا کریں تو کر سکت یہیں پھر تعجب ہے کہیہ لوگ کپڑا کیوں پہنتے ہیں۔کیونکہ ان مذہب (شریعت سے) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔برائے نام گناہ گناہ کرتے ہیں اور اصل میں چاہتے ہیں کہ ہر ایک گناہ کو چالا کی سے ہضم کر لیں جب ہر ایک قسم کی بدکاری کرنے پر وہ تیار ہیں تو پھر گناہ کیا شئے ہے اگر باکرہ نمشیرہ یا لڑکی کو نکاح میں لاویں تو وہ حرام نہیں ہے اگر کہیں سابقہ کتب میں حرام ہے تو وہ ان کے نزدیک منسوخ ہیں۔