صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا مقام صحابہ کرام کے ذکر پر فرمایا کہ :- شیعہ سب و شتم تو کرتے ہیں مگر ان کا (صحابہؓ کا) کام دیکھو کہ ئیسے خد اکی مرضی تھی ویسے ہی اسلام کو پھیلا کر دکھا دیا خوب جانتے تھے کہ بیویاں مریں گی، بچے ذبح ہوں گے اور ہر ایک قسم کی تکلیف شدید ہو گی مگر پھر بھی خد اکے کام سے منہ نہ موڑا۔یہی فقرہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک جماعت وہ ہے کہ اپنا نحب (ذمہ)ادا کر چکے ہیں جیسے منھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر (الاحزاب : ۲۴) کیسا سرٹیفکیٹ ہے کہ بعض نے میری راہ میں جان دے دی۔ایک جان وہ جس پر عیسائی پھڑک رہے ہیں اور پیچھے سے یہ معلوم ہوا کہ وہ بھی نہیں دی گئی۔ استغفار کی حقیقت ہم نے تحقیق کر لی ہے کہ استغفار کے یہ معنے ہیں کہ انسانی قویٰ جو کر توت کر رہے ہیں ان کا فراط و تفریط یعنی بے محل استعمال نافرمانی ہوتا ہے تو خد اکا لطف و کرم مانگنا کہ تو رحم کر اور ان کے استعمال کی افراط و تفریط سے محفوظ رکھ یعنی اﷲ تعالیٰ سے امداد طلب کرنی ہے۔مسیح بھی خد اتعالیٰ کی مدد کے محتاج تھے اگر کوئی اس طرح نہیں سمجھتا تو وہ مسلمان نہیں۔ بڑا فنا فی اﷲ وہ ہے جو کہ ہر آن میں خد اکی امداد چاہتا ہے جیسے ایاک نعبد وایاک نستعین (الفاتحہ : ۵) پھر مولوی محمد علی صاحب ایم-اے نے اپی فینی ایک انگریزی عیسائی پرچہ میں سے حضرت اقدس کو ایک مضمون سنایا جو ایک مسلمان کے قلم سے استغفار کے متعلق نکلا ہوا تھا جس میں اس نے اپنی نادانی سے ایک عیسائی کو یہ جواب دیا تھا کہ استغفار کا حکم آنحضرت (ﷺ) کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ اس سے امت مقصود ہے کہ آپ کی امت استغفار کرے۔ اس سے عیسائی پرچہ کے ایڈیٹر نے اس پر اعتراض کیا ہوا تا کہ اگر یہ حکم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لئے ہوا کہ امت کو تعلیم دیں تو امت کے روبرو پڑھ کر سنا دینا کافی تھا مگر ایک دن میں ستر ستر اور سو سوبار اتغفار کرنے اور پھر تنہائی میں کرنے سے کای فائدہ تھا؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ لوگ نادانی سے نہیں سمجھتے اس مسلمان شخص نے تو خود عیسائیوں کو اعتراض کا موقععہ دے دیا ہے اور یہ ا سکی کم فہمی ہے۔کہ اس نے خدو استغفار کا مطلب نہیں سمجھا اس سے مراد تو