ذکر حضرت اقدس نے کیا۔راقم خط کے متعلق کہا کہ حسن ظنی بعض لوگ شدید فتنہ پر دازی سے ایسا کرتے ہیں کہ ایک خط لکھ کر دوسرے مخالف کا نام اس پر لکھ دیا کرتے ہیں اس لئے کہ کیا معلوم کہ کس کا لکھا ہوا ہے میں نے اخبار عام کو لکھ دیا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے صرف چند ایک اموات چوڑھوں میں ہوئی ہیں سو ان کا باعث بھی مشکوک ہے کچھ ڈنگر مرے تے وہ چوڑھوں نے کھائے پھر جن لوگوں نے ان کو کھایا وہی مرے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ طاعون سے مرے۔ آخرین کا اخلاص پھر تین صاحبوں نے حضرت اقدس سے بیعت کی جس میں ایک صاحب سید اختر الدین احمد ساکن کٹک بنگال بھی تھے مولوی عبد الکریم صاحب نے احمد حسین صاحب آمدہ از کٹک کی طرف س یایک کرنسی نوٹ او ر کچھ زیورات حضرت کی خدمت میں پیش کئے۔زیورات ان کی اہلیہ مرحومہ کی طرھ س یتے جن کی وصیت تھی کہ یہ خاص حضرت اقدس کی خدمت میں دینی خدمت کے لئے دیئے جائیں حصرت اقدس نے ان کے اخلاق کی تعریف کی اور فرمایا کہ :- خدا ان کو اخرین منھم (الجمعہ : ۴) میں ملاوے۔؎ٰ