اندورنی مخالفوں کا ذکر
اندرونی مخالفوں کی حالت پر فرمایا کہ :-
اگر یہ کوئی تحریر نہیں کرتے تو دس بارہ آدمی مل کر آویں کہ ہمیں حق کی طلب ہے اور آدمیت کی بحث کریں جس میں چند ایک منصف مزج بھی موجود ہوں اور تمام باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں کہ حقیقت کھل جاوے مگر یہ لوگ ایسی بات کبھی نہیں چاہتے دراصل یہ لوگ اب سرد ہو گئے ہیں اپنی حفاظتوں کو مقدر رکھ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کوئی ان (مرزائیوں) سے نہ ملے۔ان کو جانے دو۔
پھر مولوی غلام قادر صاحب بھیروی کے ذکر اذکار دیگر احباب کرتے رہے کہ وہ وہابیوں کے سخت دشمن ہیں بلکہ ایک دفعہ میاں نجم الدین نے جب آپ کی بیعت کی تو اس نے طعنہ مارا کہ دیکھو تم نے وہی بات مانی جو ہم منواتے تھے اور ا سنے حضور کی مخالفت میں کبھی نہ قلم اٹھایا نہ زبان کھولی بلکہ وہ اس سلسلہ کو اس لئے پسند کرتا تھا کہ وہابیوں کی خوب خبر لی۔
پیشہ وروں کی ناز نمائی پر فرمایا کہ:-
یہ لوگ نز نمائی بغیر رہ نہیں سکتے ضرور کرتے ہیں۔
قبل و بعد از نماز مغرب
وسع مکانک
مغرب کی اذان سے پیشتر ہی حضرت اقدس بالائی مسجد میں تشریف لے آئے اور جس مکان کی خرید کے متعلق حضور نے کشتی نوح میں اشتہار دیا ہے اس کا ذکر کرتے رہے کہ :-
تو سیع مکان کی بہت ضرورت ہے جہاں تک ہو سکے جلدی فیصلہ کرنا چاہئے۔
پھر اذان ہوئی اور نماز ادا کر کے حصرت اقدس حسب معمول شہ نشین پر جلوہ افروز ہوئے۔ایک خط اخبار عام کے کار پردازوں کی طرھ سے حضرت اقدس کی خدمت میں آیا تھا جس کا راقم ایک شخص رحمت مسیح نامی بٹالہ سے تھا اس خط میں لکھا تھا کہ قادیان میں سخت طاعون پھوٹی ہے دھڑا دھڑ لوگ مر رہے ہیں مرزا صاحب کی جماعت بھی بہت طاعون س یتباہ ہو چکی ہے خود مرزا صاحب بھی مبتلائے طاعون ہیں وغیرہ وغیرہ۔
اخبار عام نے اس خط کو بجنسہ حضرت اقدس کے پاس تصدیق کے لئے روانہ کر دیا تھا اس کا