نے خود دیکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے ایک بیل کو ڈنڈا مارا اور وہ مر گیا۔مقدمہ عدالت میں گیا چونکہ یہ ایک اتفاقیہ امر تھا آخر عدالت نے اسے چھوڑ دیا۔
بلغ اشدہ
سے مراد وہ نبوت لیتے ہیں اس سے مراد نبوت نہیں ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ جب ہوش آیا اشد بھی دو قسم کی ہوتی ہے ایک وحی کی اشد اور دوسری جسمانی اشد موسیٰ نے مکامارا۔اتفاقیہ ایسی جگہ لگ گیا کہ موت واقع ہو گئے۔
مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ الہام کا سلسلہ بعد بپتسمہ لینے کے شروع ہوا اور روح القدس بھی پیچھے ہی اترا ہے۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا :-
پھر یوں کہو کہ مسیح کے برکات کا سرچشمہ یحییٰ ہی تھا۔سچی پاکیزگی بلا روح القدس نہیں مل سکتی یحییٰ بھی اس پر ایمان نہیں لایا وہ کہتا تھا کہ میں آنے والے سے اول آیا ہوں مگر اس نے ان کو مسیح نہیں مانا اور اسی لئے جب اس سے پوچھا گیا کہ تو ایلیاء ہے تو اس نے انکار کر دیا نیک نیتی کے ساتھ اسے (یحییٰ کو ) کچھ امرو پیش آگئے اس نے خیال کیا ہو گا کہ جب اس نے خود میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے تو یہ مسیح کیسے ہوگا۔ان (عیسائیوں ) پر سخت مشکلات ہیں بے وقوف ہیں جو اپنی پردہ دری کراتے ہیں۔
پھر حضرت اقدسؑ نے مفتی محمد صادق صاحب کو حکم دیا کہ :-
ملک صدق کا حال دیکھنا جس نے حضرت ابراہیمؑ کو تحفہ اور سوغات دیئے تھے کیونکہ یہ تین آدمیوں کو مسیح کے علاوہ بے گناہ کہا کرتے ہیں ایک ملک صدق۔دوسری مریم تیسرے یحییٰ۔ان کے نزدیک تومسیح اور مریم ہی مسّ شیطان سے پاک ہیں مگر قرآن نے مساوی رکھا ہے کہ ہر ایک راستباز مسّ شیطان سے پاک ہے کچھ تہمتیں چونکہ حضرت مسیح ؑپر آگئی تھیں کہ یہودی لوگ ان کو مس شیطان سے منسوب کرتے تھے اور طرح سرح کی باتیں کرتے اور الزام لگاتے تے اس لئے ان کا ذب ضروری تھا ن پر سخت الزابات تھے اور اب تک وہی چلے آتے ہیں سو خدا نے وہی (الازم) اتارے۔دوسروں (نبیوں ) پر اس قدر الزام نہ تھے اس لئے ان کے ایسے ذکر کی ضرورت نہ تھی یہ آنحضرت ؐ کی بزرگی کا خاصہ ہے کہ جیسے جیسے یہ بہت پیچھے پڑے ہیں اس طرف سے بہت سی بتیں نکلتی آتی ہیں لوگ کہا کرتے ہیں کہ ’’فقیراں دی بد دعا لگ جاندی ہے‘‘ اسی طرح عیسیٰ کی بددعا ان کو لگ گئی جو وہ دیا کرتے تھے کہ تم بے ایمن ہو یہ قاعدہ کیی بات ہے کہجب بات انتہا تک پہنچ جاتی ہے تو بے ایمانوں سے جواب تو بن نہیں آتا اس لئے آخر خاموش ہو کر پیچھا چھوڑا تے ہیں۔