حضرت مسیح نے اپنی آمد کا زمانہ نوح کے زمانہ کی طرح قرار دیا ہے اور پھر خدا تعالیٰ نے میرا نام بھی نوح رکھا ہے اور
واصنع الفلک
کا الہام ہوا اور
لا تخاطبنی فی الذین ظلمواانھم مغرقون
بھی فرمایا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عظیم الشان طوفان آنے والا یہ اور پھر اس طوفان میں میری بنائی ہوئی کشتی ہی نجات کا ذریعہ ہوگی۔اب طاعون وہی طوفان ہے اور خدا کا زور آور حملہ اور اس کی چمکار ہے یہی وہ سیف الہلاک ہے جس کا براہین میں ذکر ہوا ہے طبیبوں اور ڈاکٹروں کو اقرار کرنا پرا ہے کہ اس کا کوئی نظام مقرر نہیں ہے کہ گرمی میں کم ہوتی ہے یا سردی میں۔کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض جگہوں میں گرمیوں میں بھی اس کی کثرت میں فرق نہیں آیا غرض اس کا علاج بجز استغفار اور دعا اور اعمال میں پاکیزگی اور طہارت کے اور کیا ہو سکتا ہے۔؎ٰ
۲۱؍اکتوبر ۱۹۰۲ء بروز سہ شنبہ
(بوقت سیر)
کوئی ۷ بجے کے قریب حضرت اقدسؑ سیر کے لئے تشریف لائے۔کپور تھلہ سے ثند ایک احباب آئے ہوئے تھے حضرت اقدسؑ نے ان سے ملاقات کی۔اور طاعون کا حال اس طرف کا دریافت کیا اس سے پیشتر حضرت اقدسؑ قادیان کے شامل کی طرف تشریف لے جایا کرتے تھے مگر آج آپ نے حکم صادر کیا کہ اس طرف (یعنی مشرقی طرف)چلئے۔گویا آج اس مشرقی زمین کے بخت بیدار ہوئے جس پر حضرت اقدسؑ کے مبارک قدم پڑنے تھے۔
عصمتِ انبیاء علیہم السلام
آج بھی وہی مضمون زیر بحث رہا جس پر گذشتہ ایام میں بحث تھی کہ عیسائی جو دوسرے نبیوںکو گنہگار ٹھہراتے ہیں مسیح کے گناہوں کو کیوں چھپاتے ہیں فرمایا کہ
ان کو (عیسائیوں کو) بحث میں ذلت اور ندامت کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں۔دوسرے پر حملہ کرنے سے پیشتر اپنے گھر کی صفای تو کر لیں۔اگرموسیٰ ؑکے قتل پر اعتراض ہے تو وہ توریت کے بزول سے پہلے کا واقعہ یہ مگر مسیح کو کیا ہوا کہ انجیل نازل ہو رہی ہے اور کنجری سے تیل ملوا رہا ہے پھر موسیٰ ؑکا فعل ارادتاً نا تھا۔نہ اس کو مارنیکا ارادہ تھا اس لئے قتل کا الزام غلط ہے میں