کہ ہلاک کی جاتی مگر خداتعالیٰ اپنے کلام کااکرام ظاہر کرناچاہتا ہے کہ اسی اکرام کی وجہ سے اسے ہلاکت سے بچالیا اوراس طرح پر یہ نشان ٹھہرا ۔ جماعت کو نصیحت میری نصیحت اس وقت جماعت کو یہ ہے کہ یہ دن بڑے سخت اور ہولناک ہیںاس لئے جہاں تک ہوسکے اپنے دلوںکو اور آنکھوںکو برے جذبات سے روکیں اور اپنے اعمال اور چال چلن میں خاص تبدیلی پیدا کریں یہ وقت خاص تبدیلی کا ہے اور خداتعالیٰ سے دعائیں مانگنے کا ہے پس اس وقت خداتعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرو میں نے سنا ہے کہ ایک شخص عین شادی کہ دن طاعون سے مر گیا ۔دنیا کی بے ثباتی کی کیسی ی عبرت بخش مثال ہے اگر دانشمند غور کرے تو ایک طرح سے یہ دن بڑے عجیب ہیں ان پر نظر کرنے سے موت یاد آتی ہے اور خداتعالیٰ کی ہستی پر یقین پیدا ہوتاہے او ریقین ہی ایک ایسی شے ہے جو اعلیٰ درجے کی لذت اور سرور صادق الیقن کو بخشا ہے جو کسی اور کو میسر نہیںآسکتے خداشناسی کے اس مسئلے پر اس وقت ہزاروں قسم کے حجاب اور گردغبارپڑے ہیں ‏Amira 29-3-05 اور وہ یقین جو لذت بخش نتائج اپنے ساتھ رکھتا ہے وہ نہیں رہا اور وہ سرور جو دنیا کے تعلقات میں پیدا ہونے والے رنج و غم کو دور کرتا ہے اس وقت نہیں بلکہ یہ حالت ہو رہی ہے کہ اکسیر مل جاوے تو مل جاوے لیکن ایسے ئدمی اس زمانہ میں ملنے مشکل ہیں جو خد اتعالیٰ کی ہستی پر ایسا یقین رکھتے ہوںجس نے ان کی ساری قوتوں اور جذبات پر ایسا اثر کیا ہو اور ایسی معرفت عطا کی ہو جس سے ان کے گناہ کی زندگی پر موت وارد ہو چکی ہو میں سچ کہتا ہوں کہ ایسے دلوں کا ملنا بہت مشکل ہے جو ایمان اور اس کے لذت بخش نتائج کی معرفت سے بھرے ہوئے وں۔ ضرورتیں تو اس وقت بہت سی ہیں جو اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کا ہاتھ دکھائے اور اپنی چمکار سے دنیا کو روشن کرے مگر سب سے بڑی ضرورت ایسی معرفت اور یقین کا پیدا کرنا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ طاعون اسی کو پورا کر رہی ہے ٹیکہ کا علاج اس وقت تک آخری سمجھا گیا لیکن اگر یہ علاج ٹھیک نہ ہوا تو پھر مشکل ہو گی ابھی تک اس کا پورا تجربہ بھی نہیں ہوا۔جب تک ایک عدد کثیر نہ ہو کیا کہہ سکتے ہیں مثلا لاہور میں ۵۰ یا ۶۰ ہزار آدمی تیکہ لگوائے اور پھر ایک دو جاڑے ان پر امن سے گذر جاویں تو کچھ پتہ ملے لیکن اگر چھ ماہ کے بعد اس کا اثر زائل ہو جاوے تو اور ہر ششماہی کے بعد یہ نسخہ گلے پڑا تو پھر تو کچھ نہیں احادیث میںجو آیا ہے کہ آخر خدا سے لڑائی کریں گے یہ اس قسم کی جنگ ہو گی جو خد اتعالیٰ کی قضا و قدر کے مقابلہ کے لئے ہر قسم کی تیاری کی جاوے گی میرے الہام میں ج انی اجھز الجیش آیا ہے اس سے مراد طاعون ہے اور ایسا ہی