فرمایا:۔ طاعون کے خوف ناک نتائج یہ بھی ہیں کہ آخر کو جنگل بنادیتی ہے اس پر حکیم نور الدین صاحب نے کہا کہ حضور میں نے پڑھا ہے کہ جویہ نئی آبادی ہوئی ہے اس پر پرانی آبادیوں کہ نشانات ملے ہیں اور یہ لکھا ہے کہ یہ قطعات آباد تھے اور طاعون سے ہلاک ہوئے تھے حضرت اقدس ؑ نے فرمایاکہ : خواہ موذی طبع لوگ ہزاروں ہی مر جاویں گے مگر میراجی یہ چاہتا ہے کہ خداتعالیٰ کاجلال ظاہر ہو اور دنیا کو خدا تعالیٰ کا پتہ لگے اور ثبوت ملے کہ کوئی قادر خدابھی موجود ہے اس وقت دہریت اورالحاد بہت پھیلا ہواہے خداتعالیٰ کی طرف سے بے پروائی ظاہر کی جاتی ہے اورجن لوگوںنے بظاہرخداتعالیٰ کااقرار بھی کیا ہے انہوں نے یاتو خطرناک شرک کیا ہے جیسے عیسائی اور دوسرے بت پرست مشرک اور پھر جنہوں نے بظاہر توحید کااقرار کر رکھاہے اور مسیح کو خدا کی صفات سے متصف ٹھہرا رکھا ہے علاوہ بریں خداتعالیٰ کی محبت کے نشان ان کے اعمال سے ثابت نہیں ہوتے ۔ اعمال میں سستی اور بیباکی اور گناہوں پر دلیری پائی جاتی ہے جس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ خداکاخوف دلوں پر نہیں رہا اس لئے میں چاہتا ہو کہ اس بیباکی کے دور کرنے میںبے شک ہزاروں ظالم طبع لوگ ہلاک ہوںتا کہ وہ دوسروںکیلئے عبرت ہو ۔ اور وہ خداتعالیٰ کی قدرتوںاور طاقتوں پر ایمان لانے والے ہوں ۔ دیہات کے لوگ تو جنگل کے وحشیوں کی طرح ہیں مگرشہروں میں جو تعلیم یافتہ ہیں ان کی حالت بہت ہی ناگفتہ بہ ہورہی ہے میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں میںکبھی اعلائے کلمۃ اللہ اور اپنے اعمال کی اصلاح اور تبدیلی کاجوش نہیں ہے باپ دادا سے لاالہ الااللہ سن لیا اسی کو کافی سمجھا۔اعمال کی پرواہ نہیں ۔ یہ جو الہام ہو چکا ہے انہ اوی القریۃ اگر منتشر کرنے کاقانون منسوخ ن ہوتا تواس مفہوم کو اس الہام میں داخل سمجھا جاسکتا مگر اب جب کہ سب جگہ قانون منسوخ ہوگیا ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کامنشاء یہی ہے جیساکہ دوسرے الہام لولا الاکرام لھلک المقام سے پایا جاتا ہے ۔ اس میں شوکت بھی ہے اورچشم نمائی ہے جیسے ایک مجرم کو جج ۳ سال کی سزا سے او رساتھ ہی کہہ دے کہ اصل میں ۱۴سال قید کی سزا کے لائق تھا مگرعدالت رحم کرکے ۳سال سزا دیتی ہے اسی طرح پر یہ الہام ظاہر کرتا ہے کہ دراصل یہ جگہ بھی ایسی ہی تھی