نہیں کر سکتے لکھا ہے میرے جیسے معجزات دکھا ؤ گے، مگر کوئی کچھ نہیں دکھا سکتا لکھا ہے کہ زہریں کھا لو گے تو اثر نہیں کریں گی۔ مگر اب سانپ ڈستے اور کتے کاٹتے ہیں اور وہ ان زہروں سے ہلاک ہوتے ہیں اور کوئی نمونہ وہ دعا کا نہیں دکھا سکتے۔ ان کا وہ نمونہ دعا کی قبولیت کا نہ دکھا سکنا ایک سخت حربہ اور حجت ہے۔
عیسائی مذہب کے ابطال پر کہ اس میں زندگی اور روح اور تاثیر نہیں اور یہ ثبوت ہے اس امر انہون نے نبی کا طریق چھوڑ دیا ہے۔
اب اگر ہم بھی اقرار کر لیں اب نشانات اور خوار ق نہیں ہوتے اور یہ دعا جو سکھائی گئی ہے اس کا کوئی اثر اور نتیجہ نہیں تو کیا اس کے معنے یہ نہیں ہوں گے کہ یہ اعمال معاذ اللہ بے فائدہ ہیں۔ نہیں خدا تعالیٰ جو دانا اور حکمت والا ہے وہ نبوت کی تاثیرات کو قائم رکھتا ہے۔ اور اب بھی اس نے اس سلسلہ کو اسی لئے قائم کیا ہے تا وہ اس امر کی سچائی پر گواہ ہو قرآن شریف کے جس قدر اعجاز معارف معجز کلامی کے میں نے نے جمع کئے ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ ان کو ظاہر کر رہا ہے تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ کے خوارق کا ثبوت ہو یہی ایک ہتھیار اور حربہ ہے جو ہم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور جس کے ساتھ ہم مذاہب باطلہ کے سحر کو توڑنا چاہتے ہیں ہم قرآن شریف کو زندہ کلام ثابت کرنا چاہتے ہیں۔اسے منتر بنانا نہیں چاہتے۔٭
جاننا چاہئے کہ عالم آخرت درحقیقت دنیوی عالم کا ایک عکس ہے اور جو کچھ دنیا میں روحانی طور پر ایمان اور ایمان کے نتائج اور کفر اور کفر کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ عالم آخرت میں جسمانی طور پر ظاہر ہو جائیں گے اللہ جلشانہٗ فرماتا ہے من کان فی ھذہ أعمی فھو فی الآخرۃ أعمی(بنی اسرائیل :۷۳) یعنی جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا۔ ہمیں اس تمثیلی وجود سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے اور ذرا سوچنا چاہئے کہ کیونکر روحانی امور عالم رؤیاء میں متمثل ہو کر نظر آ جاتے ہیں اور عالم کشف تو اس سے بھی عجیب تر ہے کہ وجود عدم غیبت حس اور بیداری کے روحانی امور طرح طرح کے جسمانی اشکال میں انہیں آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں ۔ جیسا کہ بسا اوقات عین بیداری میں ان روحوں سے ملاقات ہوتی ہے جو اس دنیا سے گزر چکے ہیں اور وہ اس دنیوی زندگی کے طور پر اپنے اصل جس میں اسی دنیا کے کپڑوں میں سے ایک پوشاک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور بسا اوقات ان میں سے مقدس لوگ باذنہ تعالیٰ آئندہ کی خبریں دیتے ہیں اور خبریں مطابق واقعہ نکلتی ہیں۔ بسا اوقات عین بیداری میں ایک شربت یا کسی قسم کا میوہ عالم کشف سے ہاتھ آتا ہے اوروہ کھانے میں نہایت لذیذ ہوتا ہے