گیا ہے مگر کسی کو ہمت اور حوصلہ بھی نہیں ہوتا ۔خدا تعالیٰ نے ان کی ہمتوں کو سلب کر لیا ہے اور ان کے علوم اور قابلیتوں کو چھین لیا ۔باوجودیکہ یہ لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور اپنے علوم کی لاف زنیاں کرتے تھے۔مگر اس مقابلے میں خداتعالی نے ان سب کو ذلیل اور شرمندہ کیا ۔ دوسرا بڑاعظیم الشّان معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شق القمر تھا اور شق القمر دراصل ایک قسم کا خسوف ہی تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے سے ہوا ۔اسوقت بھی اللہ تعالیٰ ٰ نے کسوف وخسوف کا ایک نشان دکھایاگیاہے ۔یہ مسیح موعو داور مہدی کے لیے مخصوص تھا۔اور ابتدائے دُنیا میںسے کبھی اس رنگ میںیہ نشان نہیںدکھایاگیاتھا ۔یہ صرف مسیح موعود کے زمانے کے لیے رکھاگیاتھا اور احادیث میںآیات مہدی میںسے اُسے قرار دیاگیاہے جس کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ میرے ہی نام پر آئے گا ۔ اس میں یہی نکتہ ہے جونشانات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کودئیے گئے تھے اس رنگ کے نشان یہاںبھی دئیے جانے ضروری تھے کیونکہ یہ آمد آپ ہی کی ہے ۔ غرض قرآن شریف بدوںغور خوض بدوںمحوداثبات اپنے اندر زندگی کی روح رکھتا ہے اور بُدوں کسی نسبتی لحاظ یامقابلہ کے مستقل اعجاز ہے اور اس وقت جو اعجازکلام دیاگیاہے ۔ یہ گویا اُس اعجاز کواس طرح پر دکھایاگیا ہے جیسے ایک عمارت کو ایک نقشہ کے رنگ میںدکھایاجاتا ہے اور ایک شیشے کو دوسرے شیشے میںدکھایاجاوے ۔مسلمانوںکے لیے یہ امر کس قدر رنج کا موجب ہوتاہے ۔اگر یہ مان لیاجاتاکے کوئی خوارق اور نشانات اُن کو نہیںدیئے گئے کیونکہ پچھلے نشانات آنے والے لوگوںکے لیے بطور کہانی کے ہوجاتے ہیں۔سو انسانی فطرت تو تازہ بتازہ نشانات دیکھنا چاہتی ہے ۔مجھے ان خشک موحدوںپر افسوس ہی آتاہے جویہ سمجھ بیٹھے ہیںکے خوارق کاکوئی نشان نہیںاور نہ ان کی ضرورت ہے خشک زندگی سے تو مرنابہتر ہے ۔اگر خداتعالیٰ نے اپنے فضل کوبند کردیاہے اور قفل لگا دیاہے تو پھر ھدناالصراط المستقیم کی دُعاتعلیم کرنے کی کیاضرورت تھی ۔یہ تووہی بات ہوئی کہ ایک شخص کی مشکیںباندھ دی جاویںاور پھر اس کو ماریںکے تُواب چل کر کیوںنہیںدکھاتا۔بھلا وہ کس طرح چل سکتا ہے فیوض وبرکات کے دروازے تو خود بند کر دیئے اور پھر یہ کہہ بھی دیا کہ اھدناالصراط المستقیمکی دعا ہر روزنماز میں کی مرتبہ مانگا کرو ۔ اگرقانون قدرت سے یہ رکھا تھا کہ آپ کے بعد معجزات اور برکات کا سلسلہ ختم کر دیا تھا اورکوئی فیض نہیں ملنا تھا تو پھر اس دعا سے کیا مطلب۔ اگر اس دعا کا کوئی نتیجہ نہیں تو پھر نصاریٰ کی تعلیم اور آثار اور نتائج اور اس کی تعلیم کے آثار اور نتائج میں کیا فرق ہوا لکھا تو انجیل میں یہی ہے کہ میری پیروی سے تم پہاڑ کو بھی ہلا سکو گے مگر اب وہ جوتی بھی سیدھی