اور ان سب امور میں یہ عاجز خود صاحب تجربہ ہے کشف کی اعلی قسموں میں سے یہ ایک قسم ہے کہ بالکل بیداری کی حالت میں واقع ہوتی ہے اور یہاں تک اپنے ذاتی تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ ایک شیریں طعام یا کسی قسم کا میوہ یا شربت غیب سے نظر کے سامنے آگیا ہے اور وہ ایک غیبی ہاتھ سے منہ میں پڑ جاتا ہے اور زبان کی قوت ذائقہ اس کے لذیذ طعم سے لذت اٹھاتی جاتی ہے۔اورد وسرے لوگوں سے باتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حواسی ظاہری بخوبی اپنا کام دے رہے ہیں بلکہ لذت اس لذت نہایت الطف ہوتی ہے اور یہ ہرگز نہیں کہ وہ وہم ہوتا ہے یا صرف بے بنیاد تخیلات ہوتے ہیں بلکہ واقعی طور پر وہ خدا جس کی شان بکل خلق علیم (یٓس ٓ:۸۰)ہے ایک قسم کے خلق کا تماشہ دکھا دیتا ہے پس جب کہ اس قسم کے خلق اور پیدائش کا دنیا ہی میں نمونہ دکھائی دیتا ہے اور ہر ایک زمانہ کے عارف اس کے بارے میں گواہی دیتے چلے آئے ہیں تو پھر وہ تمثلی خلق اور پیدائش جو آخرت میں ہو گی اور میزان اعمال نظر آئیں گے اور پل صراط نظر آئے گا اور ایسا ہی بہت سے امور روحانی جسمانی شکل کے ساتھ نظر آئیں گے اس سے کیوں عقل مند تعجب کرے کیا جس نے یہ سلسلہ تمثلی خلق اور پیدائش کا دنیا ہی میں عارفوں کو دکھادیا ہے اس کی قدرت سے یہ بعید ہے کہ وہ آخرت میں بھی دکھا دے بلکہ ان تمثلات کو عالم آخرت سے نہایت مناسبت ہے کیونکہ جس حالت میں اس عالم میں جو کمال انقطاع کا تجلی گاہ نہیں یہ تمثلی پیدائش تزکیہ یافتہ لوگوں پر ظاہر ہو جاتی ہے تو پھر عالم آخرت میں جو اکمل اور اتم انقطاع کا مقام ہے کیوں نظر نہ آوے۔ یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہئے کہ انسان عارف پر اسی دنیا میں تمام عجائبات کشفی رنگوں میں کھل جاتے ہیں کہ جو ایک محجوب آدمی قصہ کی طور پر قرآن کریم کی ان آیات میں پڑھتا ہے جو معاد کے بارے میں خبر دیتی ہیں سو جس کی نظر کی حقیقت تک نہیں پہنچتی وہ ان بیانات سے تعجب میں پڑ جاتا ہے بلکہ بسا اوقات اس کے سلسلہ میں اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا عدالت کے دن تخت پر بیٹھنا اور ملائک کا صف باندھے کھڑے ہونا اور ترازو میں عملوں کا تلنا اور لوگوں کا پل صراط پر سے چلنا اور سزا جزا کے بعد موت کو بکرے کی طرح ذبح کر دینا اور ایساہی اعمال کو خوش شکل یا بدشکل انسانوں کی طرح لوگوں پرظاہر ہونا اور بہشت میں دودھ او ر شہد کی نہریں چلنا وغیرہ وغیرہ ، یہ سب باتیں صداقت اور معقولیت سے دور معلوم ہوتی ہیں۔‘‘٭