تباہی کا زمانہ ہے یہ وہی زمانہ تھا اور جس ساعت کے یہ لوگ منتظر ہیں اس کا تو ابھی کہیں پتہ بھی نہیں ہے ایک پہلوسے اول مسیح کے وقت یہودیوں نے بدبختی لے لی اور دوسرے وقت میں نصاریٰ نے بدبختی کا حصہ لے لیا مسلمانوں نے بھی پوری مشابہت یہود سے کرلی۔اگر ان کی سلطنت یا اختیار ہوتا تو ہمارے ساتھ بھی مسیح والا معاملا کرتے۔ نشانوں کے ظہور کا وقت جس طرح کھانگڑ بھینس کا دودھ نکالنا بہت مسکل ہے اسی طرح خدا کے نشان بھی سخت تکلیف کی حالت میںاترا کرتے ہیں جیسے حضرت موسیٰ ؑ کو بنی اسرائیل نے کہا تھا کہ انا لمد رکون (الشعراء : ۶۲) وہ ایسا سخت مشکل کا وقت تھا کہ آگے سے بھی ارو پیچھے سے بھی ان کا موت ہی موت نظر آتی تھی سامنے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر۔اس وقت موسیٰ ؑ نے جواب دیا کلا ان معی ربی سیھدین (السعراء : ۶۳) پس ایسی ضرورتوں اور ابتلا کے اوقات میں نشان ظاہر ہوا کرتے ہیں جبکہ ایک قسم کی جان کندنی پیش آجاتی ہے چونکہ خد اکا نام غیب ہے اس لئے جب نہایت ہی اشد ضرورت آبنتی ہے تو امرو غیبیہ ظاہر ہوا کرتے ہیں لیکھرام کے قتل کی طرز اور وضع اور وقت اور تاریخ وغیرہ سب کچھ کس صفائی سے بتلایا گیا۔مگر بے ایمانوں کے واسطے تھوڑا ساشبہ اور ایمان والوں کے واسطے تھوڑی سی بات ایمان کے لئے باقی رکھ لی تھی بے ایمانی کی بات ہی ہوئی جو کہا ہ شاید ان کی جماعت میں سے کسی نے اس کو قتل کر دیا ہو۔ (بعد از نماز مغرب) بعد ادائے نماز مغرب حضورؑ حسب معمول اجلاس فرماہوئے تو قادیان میں جو چوڑھوں میں چند آدمی مر گئے ہیں بہ ایں وجہ کہ ان ایام میں انہوںنے کئے ہلاک شدہ بھینسیں کھائی تھیں ان کا ذکر ہو کرتے ہوئے آخر طاعون کا تذکرہ ہو پڑا فرمایا :- خداتعالیٰ کاجلال ظاہر ہو ایک بار مجھے الہام ہو اتھا کہ قادیان میں نازل ہو گا اپنے وعدے کے موافق اور پھر یہ بھی تھا ۔ ’’ الا الذین امنواوعملو االصلحت ‘‘