کیتھولک کافر کہتے ہیں اور تم ان کو کافر کہتے ہو اور ڈوئی سب کو کافر کہتا ہے میرے پاس تو خد اکی گواہی ہے اور اس کے نشانات ہیں نہ کسوف وخسوف تھا۔نہ جماعت تھی‘نہ اس کی ترقی تھی نہ طاعون تھی یہ سب باتیں مجھے قبل ازوقت بتلائی گئیں اس ملک پر اتفاقاً افلاس کا سخت صدمہ آیا اور اس وجہ سے بہت سے بھوکے اور خبیث طبع لوگ جو نرے روڑی کے طالب تھے اس عیسائی فرقہ میں چند روپیوںکے لالچ میں شامل ہو گئے۔ اب یہ معلومہوتا ہے کہ دانیال اور حزقیل نبی کی کتابوں سے یہ پایا جاتا ہے کہ یہ ایک آخری جنگ ہے جو کہ شیطانکی لڑائی کہلاتی ہے اور خود شیطان نے تو لڑائی کرنی نہین بلکہ انہی لوگوں کے ذریعہ سے ہورہی ہے پس ایسی لڑائیوں سے یہ ہمارے مخالفینکو خنشیٰ بنا دیویں گے اور آخر بات ہم پر ہی آکر پڑے گی ان ہمارے مخالفوں کا یہ مذہب ہے کہ کلمۃاﷲ اور روح اﷲ خالق اور مسّ شیطان سے بری اور آسمان سے دوبارہ دنیا میں واپس آنے والا یہ سب صفات حضرت مسیح ہی میں ہیں۔کمبخت ! خدا جانے کہاں کے کہاں چلے جاتے ہیں پھر کہتے ہیں آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری پھر یہ مصرعہ تو حضرت مسیح کے بارہ میں لکھنا چاہیے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان لوگوں کے خیال کے موافق آنحضرتؐ تو قتل دجال سے دست بردار ہو گئے کیونکہ مسیح نے آکر جو قتل کرنا ہوا اور اول حصہ بھی مسیح کا ہوا اور آخر حصہ بھی مسیح کا۔ ابتداء میں کلمہ تا اور کلمہ خد اکا کلام تھا وغیرہ وغیرہ یہ سب الحاقی عبارتیں ہیں ان کے پاس الحاقی عبارتیں ہوئیں اور ہماری پا س اصل۔آخر پر ان کا یہی جواب ہوتا ہے کہ مرزائیوں سے بات نہ کرو ایک درخت کی چھوٹی ارو کمزور شاخ توایک چڑیا کو بھی ناز سے اپنے اورپر بٹھا لیتی ہے لیکن اگر اس کے اوپر مور بیٹھنا چاہے تو ایک سیکنڈ کیلئے برداشت نہیں کرسیکتے۔ زمانہ اور قرائن کے لحاظ سے دیکھو کہ جو باتیں تم مسیح پر چسپاں کرتے ہو وہ پورے طور پر ہم پر چسپاں ہوتی ہیں قیمتی پیشگوئیاں آمد ثانی پر تھیں وہ سارے کا سارا تھیلا ہم نے چھین لیا۔آمد اول میں تو ساری ذلت اور مار کھانے والی پیشگوئیاں ہیں اور جلال اور عظمت والی تو آمد ثانی پر تھیں جو کہ ہم کو ملیں۔ ایک تفسیری نکتہ عندہ علم الساعۃ (الزخرف : ۸۶) پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ :- یہ بات واقعی ہے اور قرآن پاک سے بھی ثابت ہے کہ ساعۃ سے اس جگہ مراد یہودیوں کی