خاص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خدا نے ہمیں قاعدہ بتلایا ہے کہ جو بات قرآن کے مطابق ہواس پر عمل کرو اور خو مخالف ہو اسے رد کر دو۔
کلمہ والی بات تو ہم تھوڑے دنوں تک خود شائع کرنے والے ہیں یہ تو کلمہ کلمہ لئے پھرتے ہیں اور یہاں خود میرا الہام ہے
انت منی بمنزلۃ او لادی۔
شریعت شارح کی محتاج ہے
جو مامور ہو کر آتا ہے اس کی ذاتیات سے الہام وابستہ نہیں ہوتے وہ تو شریعت کا شارح ہوتا ہے جس طرح حصرت مسیح کے وقت شریعت شارح کی محتاج تھی اسی طرح اس وقت بھی شریعت شارح کی محتاج ہو رہی تھی کیونکہ جس طرح اس وقت یہود کے ۷۲ فرقے تھے اسی طرح اسلام کے ۷۲ فرقے ہو گئے۔اب خدا ان سب کو ملا کر ایک بنانا چاہتا ہے۔
شیطان کی آخری جنگ
رات کے تین بجے کے قریب مجھے الہام ہوا :-
واما نرینک بعص الذی نعدھم للسلسلۃ السما ویۃ او نتوفینک۔جف القلم بما ھوکائن۔قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھکم الہ واحد۔والخیر کلہ فی القران۔فاتقواالنارالتی وقود ھاالناس والحجارۃ اعدت للکافرین۔
معلوم ہوتا ہے کہ آدمی دو قسم کے ہیں ایک وہ کہ جانتے تو نہیں مگر ان میںابھی انسانیت ہے دوسرے وہ جن کے آنکھ کان فہم وغیرہ سب جاتے رہتے ہیں اور حجارہ میں داخل ہیں وہ بیھ جہنم میں داخل ہوں گے جو کہ سمجھے ہوئے تو ہیں مگر بعض تعلقات دنیاوی کی وجہ سے وہ قبول نہیں کرتے معلوم ہوتا ہے اس مٰں کوئی تجویز ہے اور اس کو ابھی مخفی رکھا ہے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ترقی ہونے والی ہے اور اﷲ کریم کچھ چشم نمائی کرنے والے ہیں اور یہ بیھ فرمایا کہ جو کچھ ہمارے ارادہ میں ہے وہ ہو چکا۔اب ٹل نہیں سکتا
لم یکن الذین کفرو امن اھل الکتاب منفکین حتی تاتیھم البینۃ
یہ براہین کا میرا الہام ہے مجھے خد انے اس لیء بھیجا ہے کہ ان اہل کتاب کو بینہ دکھلا کر دم بخود کیا جاوے عنقریب سمجھ لیویں گے کہ ان کو کوئی مفر نہیں۔مسلمانوں نے تو اقبالی ڈگری اپنے اوپر عیسائیوں کو دیدی۔آئو وہ فیصلہ ہمارے ساتھ بھی کرو جو انبیاء کے ساتھ ہونا چاہئے تا کہ آسمان سے اس کا فیصلہ ہو۔تم کہتے ہو مسیح کلمۃاﷲ ہے ہم کہتے ہیں ہمیں خدا نے اس سے بھی زیادہ درجہ دیا۔اگر یہ اعتراض ہو کہ مسلمان تم کو کافر کہتے ہیں تو دیکھو تم کو رومن